’بچی کی ہلاکت گلا کٹنے سے ہوئی اور بظاہر جنسی حملہ بھی ہوا‘: سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف


اس رپورٹ میں قتل کے جرم سے متعلق تفصیلات ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیںپنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹر کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ بچی کی ہلاکت گلا کٹنے سے ہوئی جبکہ بظاہر اُن پر جنسی حملہ بھی کیا گیا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کا ریپ ہوا یا نہیں اس بارے میں حتمی رائے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس آنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کے مطابق ’بچی کا پوست مارٹم ہو چکا اور ڈی این اے سیمپلز پنجاب فرانزک لیب بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘صہیب اشرف کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کا ہائمن رپچر حالت میں پایا گیا تاہم ریپ سے متعلقہ معاملات کا حتمی تعین ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر ہو گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام نے بتایا تھا کہ سرگودھا شہر میں آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہو گئی۔خیال رہے کہ پولیس نے آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے سی سی ڈی کے حوالے کیا تھا۔ سی سی ڈی حکام سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ سی سی ڈی سرگودھا کی ٹیم ’ملزم کو برائے نشاندہی و برآمدگی آلہ قتل علاقہ تھانہ جھال چکیاں لے جا رہی تھی۔ (اس دوران) ملزمان نے سی سی ڈی ٹیم کو دیکھتے ہی ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘اس بیان میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔ سرگودھا کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کی ایف آئی آر آٹھ سالہ منتہا زہرا کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی۔ یہ ایف آئی آر قتل اور بچوں کے ساتھ ریپ سے متعلق دفعات کے تحت درج کی گئی۔ والد کی جانب سے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو اس کیس میں نامزد کیا گیا۔ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے پانچوں نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔تاہم اس کیس کی ایف آئی آر میں درج تفصیلات اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں کچھ فرق ہے۔سرگودھا پولیس اس کیس کی کیا تفصیلات بتاتی ہے؟Getty Imagesفائل فوٹوڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچی صبح گیارہ بجے کے قریب اپنے گھر سے نکلی تھی اور قریب واقع ایک دکان پر گئی جو ایک جنرل سٹور تھا۔ اُن کے مطابق منتہا کے گھر اور دکان میں تقریباً 200 فٹ کا فاصلہ ہے اور جس عمارت میں یہ جنرل سٹور تھا وہ تین منزلہ عمارت ہے، جس کے گراونڈ فلور پر جنرل سٹور ہے، جس کے بعد پہلی اور دوسری منزل ہے اور پھر عمارت کی چھت ہے۔صہیب اشرف کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق پیر کے روز ’صبح 11.15 بجے منتہا اپنے گھر سے نکلی اور 11.25 منٹ پر اُس کے والدین کو محسوس ہوا کہ بچی دس منٹ گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی ہے۔ گھر والوں نے فوراً ہی بچی کو ڈھونڈنا شروع کر دیا اور اگلے لگ بھگ ایک گھنٹے تک یہ لوگ بچی کو اپنی مدد آپ کے تحت ڈھونڈتے رہے۔‘ڈی پی او سرگودھا کے مطابق جب والدین کو بچی نہیں ملی تو انھوں نے 12.45 بجے پولیس سے پہلا رابطہ کیا اور گمشدگی کی اطلاع دی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’جہاں منتہا کا گھر ہے، اُس گلی میں صرف ایک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کیمرے کی فوٹیج حاصل کی جس میں نظر آیا کہ بچی گھر کے قریب واقع دکان کے اندر تو گئی لیکن وہ اُس دکان سے باہر نہیں آئی۔‘اُن کے مطابق ’فوٹیج میں ایک جگہ پر منتہا کی عمر کی ایک بچی کو ایک خاتون کے ہمراہ دکان سے نکلتے دیکھا گیا، لیکن یہ ویڈیو زیادہ کلیئر نہیں تھی جس پر ابتدائی سوال یہ پیدا ہوا کہ کہیں بچی کسی خاتون کے ساتھ تو نہیں چلی گئی۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ اس موقع پر پولیس نے دکان اور گراؤنڈ فلور کی تلاشی کے بعد اُوپر والی منزل کی تلاشی بھی لینا شروع کر دی۔ ’پہلی منزل کو چیک کرنے کے بعد جب ایس ایچ او بمعہ اہلکار دوسری منزل پر پہنچے تو وہاں خون کے دو، تین قطرے پڑے نظر آئے۔ اِسی منزل پر ایک واش روم تھا اور جب اس کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات تھے جبکہ ساتھ موجود گٹر پر ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب ہی پچاس روپے بھی پڑے ہوئے تھے جو غالبا بچی گھر سے لے کر چیز لینے آئی تھی۔‘ڈی پی او کے مطابق اس منزل پر ایک سیڑھی موجود تھی جو چھت کی جانب جاتی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ چھت کی چابی دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے پاس ہوتی ہے۔ ’وہ لڑکا اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا، مگر ہماری ٹیم نے طریقے سے اسے ٹریپ کر کے دکان پر بلایا اور جب وہ وہاں آ گیا تو پولیس اسے ساتھ لے کر اوپر گئی۔‘’جب پولیس چھت پر گئی تو یہ ایک کُھلی چھت تھی جس کے ایک طرف چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں بوریاں اور کاٹھ کباڑ موجود تھا، جب پولیس نے وہ بوریاں ہٹائیں تو اس کے پیچھے سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔‘ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ دکان کے ملازم، جس کے پاس چھت کی چابی موجود تھی، کی چپل پر بھی خون کے معمولی قطرے موجود تھے اور اس کو وہیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔لاپتہ بیٹی، گمنام کال اور تین ملزمان کی گرفتاری: جھنگ میں پُراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی 17 سالہ ایشال فاطمہلاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی موت: ملزمان کے خلاف مقدمے میں مبینہ گینگ ریپ اور اسقاط حمل کے بعد قتل کی دفعات شاملڈاکٹر وردہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے‘ ہلاک، ایبٹ آباد پولیس کا دعویٰبلوچستان میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والی پولیس کانسٹیبل ملک ناز کون تھیں؟ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے بتایا کہ ’بچی چیز لینے آئی تو میں اُسے کہا اگر تم نے چیز لینی ہے تو اُوپر پڑی ہے، میں نے اسے اُوپر بھیج دیا۔ جب وہ اُوپر چلی گئی تو وہاں میں نے ریپ کی کوشش کی لیکن اس دوران بچی نے شور مچا دیا جس پر میں نے چھری سے اسے کاٹ دیا۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ جب رات کو دکان بند ہو گی تو وہ لاش کو وہاں سے نکال کر کہیں پھینک دے گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد یہ کیس اب سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا اور وہی مزید تفتیش کریں گے اور ملزمان کا ریمانڈ لیں گے۔ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟Getty Imagesتاہم ایف آئی آر میں درج تفصیلات ڈی پی او سرگودھا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات سے کچھ مختلف ہیں۔ایف آئی آر میں والد کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اُن کی بیٹی منتہا 22 جون (پیر) کو دن 11 بجے کارخانہ بازار میں واقع ایک کریانہ سٹور سے چیز لینے کے لیے نکلی تھی اور یہ سٹور اُن کے گھر کے قریب ہی واقع تھا۔والد کے مطابق اُن کی بیٹی ’اکثر وہاں سے چیز لینے جاتی تھی، کچھ دیر گزری اور میری بیٹی واپس نہ آئی تو مجھے فکر لاحق ہوئی جس پر میں کریانہ سٹور گیا اور دکان مالک سے اپنی بیٹی کی بابت پوچھا تاہم اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘ایف آئی آر کے متن کے مطابق کوئی جواب نہ ملنے پر والد (دیگر افراد کے ہمراہ) دکان کے اوپر تیسری منزل پر پہنچے تو وہاں موجود مرکزی ملزم (دکان پر کام کرنے والا ملازم)، جس نے قمیض نہیں پہنی ہوئی تھی، انھیں دیکھ کر اپنے ہاتھ میں موجود چھری پھینک کر فرار ہو گیا۔ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ جب اپنی بیٹی کے پاس پہنچے تو وہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا کہ دو دن قبل اُن کی حساب کتاب کے معاملے پر دکان مالک سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر انھیں دھمکی دی گئی تھی کہ ’میں تمہیں ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر یاد رکھو گے۔‘والد نے پولیس سے استدعا کی کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔والد کا ایف آئی آر سے متعلق کیا کہنا ہے؟بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بچی کے والد نے کہا کہ ابتدائی تلاش کے دوران وہ خود دکان کی عمارت کے اُوپر کی منزل پر گئے تھے مگر انھیں اپنی بچی نہیں ملی تھی۔انھوں نے کہا کہ جب اُن کے کال کرنے پر پولیس آئی تو انھوں نے پہلے کیمرے کی فوٹیج دیکھی اور پھر اپنے اعلیٰ افسران کو اس کی اطلاع دی جو موقع پر پہنچے اور مزید کارروائی کی گئی۔ ان کے مطابق اس دوران ریسکیو 1122 اور شواہد اکٹھے کرنے والے اہلکار بھی آ گئے۔ والد کے مطابق ’جب ایس ایچ او موقع پر پہنچے اور انھوں نے فوٹیج دیکھی تو انھوں نے مزید نفری کو طلب کیا اور اس کے بعد اوپر کی منزل پر کیا ہوا اس کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں۔‘جب اُن سے پوچھا گیا کہ اُن کی درخواست پر درج ہونے والی ایف آئی آر میں پولیس نے لکھا کہ بچی کے والد نے خود دیکھا کہ ملزم کے ہاتھ میں چھری تھی اور وہ اُن کے سامنے فرار ہوا؟ اس پر والد کا کہنا تھا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور پڑھے لکھے نہیں۔ تاہم انھوں نے ایف آئی آر میں درج اس بات کی تصدیق کی کہ اُن کی دو روز قبل دکان والوں سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ایف آئی آر اور پولیس کی جانب سے بیان کیے گئے واقعات میں تضاد پر ردعمل دیتے ہوئے تفتیش سے منسلک ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’لیگل سسٹم اور پراسیکیوشن کے مسائل کی وجہ سے حقیقی واقعات اور ابتدائی رپورٹنگ میں کچھ چیزیں ایسی ایڈ ہو جاتی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جائے گا اور عدالت میں کیس ایف آئی آر کی بنیاد پر ہی آگے چلایا جائے گا۔یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے ریلیز کی گئی تصاویر میں بھی بچی کی میت چھت پر موجود کاٹھ کباڑ کے پاس پڑی نظر آتی ہے۔ماہر قانون ایڈوکیٹ اسامہ احمد نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کیس میں دو دستاویز یعنی ایک ایف آئی آر اور دوسرا چالان زیادہ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔’پولیس چالان اس وقت مرتب کرتی ہے جس وہ تمام تر تحقیقات مکمل کر لیتی ہے جبکہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے وہ باتیں درج کی جاتی ہیں جو مدعی پولیس کو بیان میں ریکارڈ کرواتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ عموعا اگر ایف آئی آر میں عینی شاہدین موجود ہوں تو ٹرائل کے دوران کیس میں مدد ملتی ہے۔ اگر عینی شاہد نہ ہو تو پروسیکیوشن کو کیس ثابت کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے کیونکہ پھر فیصلہ ثبوت اور دیگر شواہد پر چلتا ہے۔‘لاپتہ بیٹی، گمنام کال اور تین ملزمان کی گرفتاری: جھنگ میں پُراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی 17 سالہ ایشال فاطمہلاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی موت: ملزمان کے خلاف مقدمے میں مبینہ گینگ ریپ اور اسقاط حمل کے بعد قتل کی دفعات شاملسات سالہ بچی کا پڑوسی کے ہاتھوں مبینہ ریپ اور قتل: ’کٹا سر باتھ روم سے جبکہ جسم کے باقی حصے چارپائی کے نیچے سے برآمد ہوئے‘ثنا یوسف کا قتل سے ایک دن پہلے والد سے وعدہ: ’اپنی جان دے دوں گی لیکن آپ کی عزت کا خیال رکھوں گی‘بلوچستان میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والی پولیس کانسٹیبل ملک ناز کون تھیں؟

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

اسلام آباد: نویں محرم کے مرکزی جلوس کے لیے تھری لیئر سیکیورٹی اقدامات

محرم الحرام کے لیے فول پروف سیکیورٹی اقدامات، جائزہ اجلاس میں حکام کی اہم ہدایات

ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی موسم گرم اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

آج اور کل میٹرو، الیکٹرک اور سپیڈو بس سروس معطل رہے گی

سیکیورٹی وجوہات کے باعث جعفر ایکسپریس دو روز کے لیے معطل

شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت، ملک بھر میں نویں محرم کے مرکزی جلوس برآمد

’بچی کی ہلاکت گلا کٹنے سے ہوئی اور بظاہر جنسی حملہ بھی ہوا‘: سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف

’20 لوگوں کو سردی سے ٹھٹھر کر مرتے دیکھا‘: یورپ جانے کی خواہش میں اپنے اعضا گنوانے والوں کے الزامات

’مارا پیٹا اور برہنہ کیا گیا، برفانی طوفان میں پہاڑی عبور کرنے پر مجبور کیا:‘ یورپ جانے کی خواہش میں اعضا گنوانے والے افغان باشندوں کے ترکی پر الزامات

اٹلی: پارک میں کھیلتے بچوں پر حملہ کرنے والے شخص پر قابو پانے والے گجرات کے نوید اسلم جن کی جرات کا سرکاری طور پر اعتراف ہوا

’انصاف بھلے اندھا ہو مگر بھینگا نہ ہو‘

وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے بعد ایمرجنسی نافذ، ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ

صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر اظہارِ افسوس

یورپ میں شدید گرمی کا باعث بننے والا ’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟

سابق افغان اینکر پر فرانس میں ماڈلنگ کرنے پر تنقید: ’مجھ پر حملہ ہوا، کہا گیا تم پشتون ہو تمھیں ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے‘

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی