عالمی یومِ مقامی اقوام: جنید انوار چوہدری کا ساحلی آبادیوں کے روایتی علم کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے پر زور


وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ ساحلی آبادیوں کے روایتی ماحولیاتی علم کو قومی پالیسی میں شامل کرکے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سمندری حیات کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ عالمی یومِ مقامی اقوام کے موقع پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ساحلی آبادیوں نے نسل در نسل سمندری لہروں، مدوجزر، سمندری دھاروں، موسمی حالات، ماہی گیری کے مقامات، مینگرووز اور سمندری حیات سے متعلق قیمتی مشاہداتی علم محفوظ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے گوادر اور جیوانی تک ساحلی آبادیوں کا روزگار ماہی گیری، مینگرووز، آبی گزرگاہوں اور دیگر سمندری وسائل سے وابستہ ہے، تاہم موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث انہیں مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ کراچی کی ساحلی بستیوں کو شہری پھیلاؤ، آلودگی اور قدرتی مساکن کی تباہی جبکہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو میٹھے پانی کی کمی، سمندری پانی کی پیش قدمی اور ساحلی کٹاؤ جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی کی روایتی ماہی گیر برادریاں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی ماہی گیروں کو مدوجزر، سمندری دھاروں، ہواؤں، ماہی گیری کے موسم اور سمندری حیات میں تبدیلیوں کا گہرا مشاہداتی علم حاصل ہے، جسے سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کرکے ماہی گیری کے بہتر انتظام، ماحولیاتی بحالی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنس اور روایتی ماحولیاتی علم ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ معاون ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری درجہ حرارت، مچھلیوں کی اقسام، بارشوں، پانی کی نمکیات، ساحلی کٹاؤ اور شدید موسمی واقعات میں تبدیلیاں روایتی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ جنید انوار چوہدری نے ساحلی علاقوں میں کمیونٹی کی شمولیت سے موسمیاتی موافقت کے اقدامات، مؤثر پیشگی انتباہی نظام، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ساحلی انفرااسٹرکچر اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام کو فروغ دینے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں ساحلی آبادیوں کو شریک کرنا ضروری ہے، کیونکہ مقامی لوگوں کو شراکت دار بنا کر ہی ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو ماحولیاتی تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا، صحت مند سمندر، مضبوط ساحلی ماحولیاتی نظام اور بااختیار ساحلی برادریاں پائیدار بحری ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومت ساحلی علاقوں میں موسمیاتی لچک بڑھانے، روایتی علم کے تحفظ اور پالیسی سازی میں مقامی آبادی کی شمولیت کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید پاکستان کی خبریں

آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل، باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں پولنگ ہوگی

یومِ آزادی: آئی ایس پی آر کا بلوچی ملی نغمہ ’’پاک اے وطن‘‘ جاری

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر خصوصی نغمہ ’’ہم سب ایک ہیں‘‘ جاری

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال جاری، مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا اعلان

مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں خطے کا کوئی بھی ملک شامل ہو سکتا ہے: پاکستان

’میر رضا علی کو گولی کمر پر ماری گئی تھی‘: کراچی کے نوجوان تاجر کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا: اسحاق ڈار نے مکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات جاری کردیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ کے سات حلقوں میں پولنگ ملتوی، مقامی ووٹرز کیا چاہتے ہیں؟

خضدار: حکومت کی جانب سے اسما جتک کے والد سمیت دیگر افراد کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

جماعت اسلامی کا مہنگائی اور آئی پی پیز کے خلاف 16 اگست کو ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان

بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 15 خوارج ہلاک

عمان کے ساتھ ’مثبت مذاکرات‘ کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکہ کے سامنے چھ شرائط

امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو’تباہ‘ کر دیا ہے: امریکی نائب صدر کا دعویٰ

عالمی یومِ مقامی اقوام: جنید انوار چوہدری کا ساحلی آبادیوں کے روایتی علم کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے پر زور

نادرا کا سوشل میڈیا پر جعلی ٹریکنگ آئی ڈیز سے متعلق عوام کو انتباہ

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی