
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ 7 اگست 2026ء کو مکہ المکرمہ میں طے پایا، جو تینوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کے گہرے تعلقات کا مظہر اور سالہا سال سے جاری باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے۔
In the light of ongoing discussion and interest surrounding the “Makkah Joint Defence Agreement” (The Makkah Accord) over the past two days, the following context and clarity on this Agreement may be useful for everyone to note:• The Makkah Joint Defence Agreement, jointly…— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 9, 2026
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا مقصد امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کی رو سے تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ باقی تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ معاہدا پہلے سے موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔
وزیر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ خطے کے ان تمام ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو باہمی احترام اور پُرامن ذرائع سے اختلافات کا حل چاہتے ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام برادر ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار امن، تنازعات کے پُرامن حل اور خطے کے محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔