
خیبر پختونخوا کو ملنے والی عالمی بینک کی گرانٹ پر مبنی فنڈز میں ڈالر کی قیمت کے فرق سے حاصل ہونے والی 46 کروڑ 65 لاکھ 8 ہزار روپے کی بچت کے اخراجات اور تفصیلات غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے اس معاملے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے آئین اور قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کمیونٹی سپورٹ پراجیکٹ کی انتظامیہ نے ڈالر کی شرح میں فرق سے حاصل ہونے والے منافع کو محکمہ خزانہ کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے بینک اکاؤنٹ میں غیرقانونی طور پر رکھا اور نامعلوم مقاصد کےلیے خرچ کیا۔ اس رقم کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں اور محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کی جانب سے آڈٹ حکام کو کوئی تسلی بخش جواب بھی نہیں دیا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 118 اور 119 کے مطابق صوبائی حکومت کو ملنے والی تمام آمدنی، قرضہ جات یا بچت صوبائی کنسولی ڈیٹڈ فنڈ کا حصہ بنتی ہیں جبکہ دیگر آمدنی پبلک اکاؤنٹ میں جمع کروانا لازمی ہے لیکن اس معاملے میں قواعد کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ اس بچت کی رقم سے متعلق فوری تحقیقات کی جائیں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور فنڈز کو ضابطے کے مطابق صوبائی خزانے میں واپس منتقل کیا جائے۔