قطب الدین بختیار کاکی: انڈیا میں قوالی متعارف کرانے والے بزرگ، جن کے مزار پر بادشاہوں سے عام افراد تک اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں


BBCخواجہ بختیار کاکی کا مزاریہ آج سے لگ بھگ 225 برس پہلے کی بات ہے جب مغل دارالحکومت محض ایک ہفتے کے لیے دہلی کے لال قلعے سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع علاقے ’مہرولی‘ میں منتقل کر دیا گیا۔اور اس موقع کی مناسبت سے مہرولی میں موجود آم کے باغوں میں جھولے پڑے، مرغوں کی لڑائیوں کا اہتمام کیا گیا، بیلوں کی لڑائی پر شرطیں لگائی گئیں، پتنگ بازی، کُشتی اور تیراکی کے مقابلے ہوئے اور اس تمام جشن و تفریح کے ماحول میں ایک صوفی بزرگ کے مزار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی گئی۔مہرولی میں ہونے والا یہ جشن دراصل اکبر شاہ ثانی (1808- 1837) کے بیٹے مرزا جہانگیر کی رہائی کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ اکبر شاہ ثانی کی اہلیہ ممتاز محل بڑے بیٹے سراج الدین ظفر (جو بعد میں بہادر شاہ ظفر کے نام سے تخت نشین ہوئے اور آخری مغل بادشاہ کہلائے) کے بجائے اپنے منجھلے بیٹے مرزا جہانگیر کو تخت نشین کروانا چاہتی تھیں۔اہلیہ ممتاز محل کی اِسی خواہش کی بنیاد پر اکبر شاہ ثانی نے منجھلے بیٹے مرزا جہانگیر کو اپنا ولی عہد نامزد کر دیا مگر یہ فیصلہ انگریز ریزیڈنٹ کو منظور نہیں تھا۔ ہندوستان میں اگرچہ اُس وقت تک کہنے کو تو مغل بادشاہوں کی ہی حکومت تھی لیکن بہرحال حکم کمپنی بہادر کا ہی چلتا تھا۔مرزا جہانگیر کو ولی عہد نامزد کرنے کے معاملے پر اکبر شاہ ثانی اور انگریز ریزیڈنٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور اسی دوران ولی عہد مرزا جہانگیر نے انگریز ریزیڈنٹ پر طمنچہ (پستول) تان لی اور گولی داغ دی۔ اگرچہ انگریز ریزیڈنٹ آرچیبالڈ سیٹن اُن کی گولی سے بچ تو گئے لیکن اس جرم کی پاداش میں جہانگیر کو قید ہو گئی اور انھیں دہلی سے الہ آباد بھیج دیا گیا۔BBCبختیار کاکی کے مزار کے صدر دروازے پر کندہ شعر: ’عشق کے خنجر سے مرتے ہیں امین الدین جو، زندہ رہتے ہیں ہمیشہ مثلِ قطب الدین وہ‘مرزا فرحت اللہ بیگ اپنی کتاب ’پھول والوں کی سیر‘ میں لکھتے ہیں کہ والدہ ممتاز محل نے شہزادے جہانگیر کی رہائی کے لیے مہرولی میں واقع خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر منت مانگی کہ اگر اُن کے بیٹے کی رہائی ہو جاتی ہے تو وہ اُن کی قبر پر پھولوں کی ایک مسہری نذر کریں گی۔بلآخر شہزادہ جہانگیر کی رہائی ممکن ہو گئی اور مہرولی میں ایک ہفتے کے لیے ہونے والا یہ جشن بختیار کاکی کی درگاہ پر مانگی گئی منت کو پورا کرنے کے سلسلے میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔سات دن تک جشن کا ماحول رہا اور عوام اِس سے اِس قدر سرشار ہوئے کہ اسے ایک روایت کے طور پر ہر سال منایا جانے لگا۔ یہاں تک کہ بہادر شاہ ظفر نے سنہ 1857 کی بغاوت کے دوران بھی اِس جشن کو منایا، گو کہ یہ مغل دور کا آخری جشن ثابت ہوا۔اسلامی دنیا، بالخصوص ہندوستان میں تصوف کے ماہر اور دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرزا جہانگیر کی رہائی پر مہرولی میں منایا جانے والا جشن بختیار کاکی کی وفات کے لگ بھگ 600 سال بعد کا واقعہ ہے، جس سے اُن (بختیار کاکی) کی مقبولیت کا پتہ معلوم ہوتا ہے اور بختیار کاکی کے مزار پر یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔BBCبختیار کاکی نے دہلی کے نواح میں واقع کلوکھیر گاؤں کو اپنا مسکن بنایا جو اب ’مہرولی‘ کہلاتا ہے (مزار کا اندرونی منظر)اس جشن کو ’سیر گل فروشاں‘ (یعنی پھول والوں کی سیر) کا نام دیا۔ اگرچہ سنہ 1942 میں سرکاری سرپرستی میں اس کا انعقاد بند ہو گیا مگر یہ سلسلہ متواتر آج بھی جاری ہے۔ پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری نے کہا کہ اس جشن کے دوران بختیار کاکی کی درگاہ کے راستے میں واقع ’یوگ مایا‘ کے مندر پر پھولوں کا پنکھا بھی چڑھایا گیا جو اسے انڈیا کے ہندو مسلم مشترک تہذیب کی علمبردار روایت بناتا ہے۔پروفیسر جعفری نے کہا کہ عوام کی عقیدت اور اُن کی یادداشت نے انھیں حکومت کی پابندیوں کے باوجود ان درگاہوں سے جوڑے رکھا۔انھوں نے حالیہ دنوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُترپردیش میں بہرائچ کی درگاہ کو لے لیں جس کے راستوں پر یوگی آدتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت نے رکاوٹیں لگا دیں لیکن پھر بھی لوگ گلیوں اور پگڈنڈیوں کے غیرروایتی رستوں سے وہاں پہنچے اور ان میں ہندو مسلمان دونوں ہی شامل تھے۔BBCمزار کا اندرونی منظرجامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ دینیات کے سابق صدر پروفیسر اختر الواسعنے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں تین طریقے سے اسلام آیا۔ پہلا تجارت کے ذریعے جس کی ابتدا ہم جنوبی ہند میں دیکھتے ہیں، دوسرا لشکر کشی کے ذریعے جو ہم محمود غزنوی اور غوری وغیرہ کی صورت میں دیکھتے ہیں جبکہ تیسرا صوفیا اور اولیا اللہ کے ذریعے۔اور اسی تیسرے سلسلے کی ایک کڑی بختیار کاکی ہیں جنھوں نے دہلی کے نواح میں واقع کلوکھیر گاؤں کو اپنا مسکن بنایا جو اب ’مہرولی‘ کہلاتا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک سٹڈیز کے فیلو معین احمد نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ دور تھا جب ہم انڈیا میں علما، مشائخ اور صوفیہ کی آمد دیکھتے ہیں جو اہم شہروں کے بجائے گاؤں، دیہات میں سکونت پذیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، یہیں سے وہ عوام سے رابطے میں آئے اور اسلام کی ترویج و اشاعت میں اُن کا کردار نمایاں ہے۔اگرچہ ان صوفیا اور مشائخ نے حکمرانوں سے دوری بنائے رکھی لیکن بختیار کاکی دہلی کے دوسرے بادشاہ سلطان التمش کو بہت اہمیت دیتے تھے اور سلطان نے ہی انھیں ’شیخ الاسلام‘ کا لقب دیا تھا، گو کہ بختیار کاکی نے اس لقب کو ٹھکرا دیا اور اسے نہیں اپنایا۔لیکن اُن کے بعد کے زمانوں میں انھیں ’قطب الاقطاب‘ قرار دیا گیا۔ معین احمد نظامی کے مطابق انھیں یہ شرف حاصل ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے کے تین بڑے صوفیا شیخ عبدالقاد جیلانیاور شہاب الدین سہرودی سے کسب فیض حاصل کیا اور سمرقند میں معین الدین سجزی (چشتی) سے بھی ملے اور اُن کے حلقے میں شمولیت اختیار کی۔ معین احمد نظامی کے مطابق بختیار کاکی کو معین الدین سجزی (چشتی) کے ہاں سے ہی خرقہ خلافت عطا ہوا اور مرشد کی طرف سے انھیں دہلی کی جانب کوچ کرنے کی تلقین کی گئی۔بختیار کاکی مشرق وسطیٰ میں وادی فرغنہ کے اوش (یہ جگہ اب کرغستان میں ہے) سے ہجرت کر کے ہندوستان پہنچے تھے۔ ابوالفضل کی تصنیف ’آئین اکبری‘ کے مطابق اُن کے والد کا نام سید کمال الدین موسی الحسینی تھا۔ان کا اصل نام بختیار تھا لیکن اُن کی علم و فضیلت کے باعث انھیں ’قطب الدین‘ کا لقب دیا گیا۔ اُن کا سلسلۂ نسب موسیٰ الکاظم، جعفر الصادق اور محمد الباقر سے ہوتا ہوا امام زین العابدین بن حسین اور پھر حضرت علی تک پہنچتا ہے۔جب صوفی درویش معین الدین چشتی ’اوش‘ سے گزرے تو انھوں نے بختیار کاکی سے دہلی کی جانب کوچ کرنے کے لیے کہا اور بتایا کہ اُن کے علم و ہدایت کی شمع وہیں روشن ہو گی۔ واضح رہے کہ بختیار کاکی، حضرت معین الدین چشتی کے پہلے خلیفہ تھے۔قطب الدین بختیار کو ’کاکی‘ کیوں کہا جاتا ہے؟مؤرخین کے مطابق یہ لقب انھیں اُن کے ’کشف و کرامت‘ کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ صوفیا کی زندگی انتہائی سادہ ہوا کرتی تھی اور افلاس و تنگ دستی تو اُن کا شیوہ کہلاتی تھی۔ یہی حال قطب الدین بختیار کا بھی تھا۔تاریخی حوالوں میں یہ روایت موجود ہے کہ جب اُن کے گھر میں فاقہ کشی کی نوبت آ جاتی تو اُن کی اہلیہ اُن کی ایما پر پڑوس کے نان بائی کے یہاں سے قرض لے لیتیں مگر پھر ایک دن انھوں نے اپنی اہلیہ کو قرض لینے سے منع کر دیا۔اہلیہ نے سوال کیا کہ ’تو پھر ہم کھائیں گے کہاں سے۔‘ اس پر بختیار کاکی نے جواب دیا کہ جب ضرورت ہو گھر کے فلاں کونے سے جا کر ’کاک‘ لے لیا کریں۔ (خیال رہے کہ کاک ایک قسم کی روٹی کو کہتے تھے۔) اس کے بعد سے اہلیہ کو جب بھی خوراک کی ضرورت ہوتی تو گھر کے مخصوص کونے میں جاتیں جہاں روٹی پہلے سے موجود ہوتی۔اس پر پڑوس میں رہنے والے نانبائی نے محسوس کیا کہ بہت دنوں سے خواجہ کے گھر سے کوئی قرض نہیں لیا گیا اور نہ ہی روٹی لی جا رہی ہے۔ وہ پریشان ہوا کہ کہیں خواجہ اُن سے ناراض تو نہیں ہو گئے ہیں۔ اس نے ان کا حال دریافت کرنے کے لیے اپنی اہلیہ کو خواجہ بختیار کے گھر بھیجا۔جب نانبائی کی اہلیہ نے خواجہ بختیار کی اہلیہ سے روٹی یا قرض نہ لینے کا سبب پوچھا تو خواجہ کی اہلیہ نے ان پر راز فاش کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ اس دن کے بعد سے گھر کے کونے سے کاک ملنی بند ہو گئی لیکن ان کی اس ’کرامت‘ کا چرچا چہارسو ہو گیا اور انھیں ’کاکی‘ کہا جانے لگا۔درگاہ اجمیر شریف: ایک ’غریب نواز‘ کی آخری آرام گاہ جہاں دنیا بھر سے رہنما چادر چڑھانے آتے ہیںایک ہندو کے قبولِ اسلام کی وائرل ویڈیو جو درگاہ حضرت بل کے امام پر پابندی کا باعث بنی: ’اب میں درگاہ کا پانی کے راستے دیدار کرتا ہوں‘قطب مینار سے اجمیر شریف کی درگاہ تک انڈیا میں وہ دس سے زیادہ مقامات جہاں ’مندر مسجد‘ کا تنازع چل رہا ہےسات بہنوں کی درگاہ جہاں آج بھی خواتین منتیں لے کر آتی ہیںپروفیسر جعفری کہتے ہیں کہ اگرچہ صوفیا اور اولیا سے کرشموں کا اظہار مقبول بیانیے کا حصہ ہے لیکن سنجیدہ تاریخ نویسوں کے ہاں اُن کا ذکر نہیں ملتا۔ انھوں نے عہد وسطیٰ کے معروف تاریخ نویس ضیا الدین برنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بختیار کاکی کے بعد دہلی کے شیخ حضرت نظام الدین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں اُن میں اُن کے یہاں ہر مذہب و فرقے کے لوگوں کی کشاں کشاں آمد کا ذکر ہے لیکن کسی کرشمے کی بات نہیں کی۔معین احمد نظامی کے مطابق ہندوستان میں یہ درگاہیں اس لیے پھلی پھولیں کہ وہاں لوگوں کے دکھ درد کا مداوا کیا جاتا تھا، انھیں کھانا ملتا تھا اور ہر کس و ناکس کے لیے قیام کی گنجائش تھی۔ہندوستان میں یہ سلسلہ ان ہی مشائخ کے ذریعے پروان چڑھا اور اُن کے خدمت خلق کے جذبے نے عوام میں ان کے لیے عقیدت پیدا کی۔بختیار کاکی کو اگر ان کی زندگی میں بادشاہ المتش سے احترام ملا تو وہیں لودی سلاطین اور مغل سلاطین نے بھی انھیں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا۔Getty Images2007 میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر تاجیندر کھنہ اور کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی تھیکہا جاتا ہے سلطان التمش ایک جنگ سے واپس آئے تو وہ آرام کرنے کے بجائے قطب الدین کے دیدار کے لیے چلے گئے تاکہ اپنے پیرو مرشد قطب الدین بختیار کاکی سے اظہار عقیدت کر سکیں اور انھوں نے دہلی میں اُن کے ہی اعزاز میں قطب مینار تعمیر کروایا تاہم بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ پہلے بادشاہ قطب الدین ایبک کے نام پر ہے جنھوں نے اس کی تعمیر شروع کروائی تھی۔جے این یو سے پی ایچ ڈی کرنے والے محمد حیات ’مہرولی‘ میں رہتے ہیں انھوں نے بتایا کہ کس طرح آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے وہاں اپنی قبر کے لیے جگہ مختص کی تھی اور وہاں ان کے نام پر ظفر محل آج بھی موجود ہے۔انھوں نے بی بی سی کے ساتھ اس کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں بہادر شاہ ظفر کی خواہش تھی کہ اُن کی تدفین ہو۔’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1947 میں تقسیم ہند کے دوران فسادیوں نے بختیار کاکی کے مزار کی بے حرمتی کی، اس کی جالیوں کو توڑا گیا اور مہرولی میں بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔اُس زمانے میں مہاتما گاندھی نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی کہ درگاہ کو عرس کے لیے وقت پر بحال کیا جائے اور 72 گھنٹے کے اندر مزار کے ڈھانچے کی تزئین و آرائش کی جائے۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ میں بھی اس کا ذکر کیا اور لکھا کہ مہاتما گاندھی نے 1948 میں دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے ختم کیے جانے کے مطالبے کے ساتھ جب اپنی آخری تادم حیات بھوک ہڑتال شروع کی تو تمام فرقوں کے رہنماؤں نے اُن پر زور دیا کہ وہ انشن (بھوک ہڑتال) ختم کر دیں۔ گاندھی نے انشن ختم کرنے کے لیے جو چھ شرائط پیش کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہندو اور سکھ کفارے کے طور پر خواجہ بختیار کاکی کے مزار کی مرمت کرائیں، جسے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران نقصان پہنچا تھا۔مہاتما گاندھی نے خواجہ بختیار کاکی کے سالانہ عرس کے موقع پر جب اُن کے مزار کی زیارت کی تو ایک جم غفیر اُن کے ساتھ تھا۔اس کے بعد سے انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ایک بار پھر سے ’پھول والوں کی سیر‘ کی روایت کو جاری کیا۔ محمد حیات بتاتے ہیں کہ یہ اب سات کے بجائے تین دن کا جشن ہے جس میں جہاں بختیار کاکی کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی جاتی ہے وہیں اس سے قریب ہی واقع مندر میں پنکھا چڑھایا جاتا ہے۔خواجہ بختیار کاکی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان میں فن قوالی لانے والے پہلے شیخ ہیں اور انھوں نے ہی اس خطے میں سماع کو متعارف کرایا، جو بعد میں چشتی سلسلے میں ایک عام روایت بنا۔معین الدین نظامی بتاتے ہیں کہ خواجہ بختیار کی پیدائش و پرورش اوش میں ہوئی تھی جو کہ حلاجی صوفی سلسلے کا مرکز تھا اور خواجہ کاکی محفل سماع کے بہت دلدادہ تھے۔وہ اس روایت کو ہندوستان لے کر آئے اور بہت شوق سے سماع کی محفل میں شرکت کرتے تھے۔وہ خود ایک شاعر تھے اور اُن کا کلیات بھی موجود ہے لیکن ایک دن ان کے ہاں احمد جامی شاعر نے ایک شعر پڑھا جس کے بعد ان پر ایسا حال طاری ہوا کہ وہ چار دن تک حالت سماع میں رہے اور پھر اسی حالت میں وفات پا گئے۔وہ یہ شعر پڑھتے جاتے اور سر دھنتے جاتے تھے:کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را/ ہر زماں از غیب جانِ دیگر استان کا مزار مہرولی میں ظفر محل سے ملحق قطب مینار کے پاس ہے۔ مہرولی کو کچھ لوگ مہرِ ولی بھی کہتے ہیں یعنی ایسا علاقہ جہاں ولیوں کی برکت اور مہربانیاں ہوں۔عرس کے علاوہ وہ بڑی تقریب سیر گل فروشاں ہے۔ اس جشن کو جواہر لعل نہرو کی ترغیب پر دوبارہ سنہ 1962 میں شروع کیا گیا جس کے بعد سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اب مختلف ریاستوں کی جانب سے اس موقع پر قبر پر پھول کی چادر اور مندر پر پنکھا چڑھایا جاتا ہے اور یہ تمام مذاہب کے لیے عقیدت کا مقام ہے جہاں بہت سے ديگر صوفیا اور مشائخ کی بھی قبریں ہیں۔درگاہ اجمیر شریف: ایک ’غریب نواز‘ کی آخری آرام گاہ جہاں دنیا بھر سے رہنما چادر چڑھانے آتے ہیںدلی میں نظام الدین درگاہ پر بسنت پنچمی کا انوکھا جشنانڈیا میں ’خدا کے نام پر‘ وقف کی گئی لاکھوں ایکڑ اراضی کا قانون تبدیل: ’آج مسلمان نشانے پر ہیں، کل کوئی اور ہوگا‘جنگ میں لوٹی دولت سے ہندوستان میں فلک بوس مندر بنانے والے چولا خاندان کی کہانیقطب مینار سے اجمیر شریف کی درگاہ تک انڈیا میں وہ دس سے زیادہ مقامات جہاں ’مندر مسجد‘ کا تنازع چل رہا ہےسات بہنوں کی درگاہ جہاں آج بھی خواتین منتیں لے کر آتی ہیں

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

یوم دفاع پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، فتنہ الخوارج کا بمبار ساتھیوں سمیت گرفتار

ڈالر کی قیمت میں ردوبدل سے 46 کروڑ 65 لاکھ کی بچت کہاں گئی؟؟ آڈیٹر جنرل نے سوال اٹھا دیا

پنجاب کے دریاؤں کی بپھری موجوں نے تباہی مچا دی، بستیاں زیرِ آب، لوگ بے گھر

نئی اور جدید سرحدی ’دیوار‘ جو یورپ کو ممکنہ روسی حملے سے بچانے میں مدد کرے گے

ملک بھر میں آج سے موسلا دھار بارشیں ہوں گی، الرٹ جاری

صدر، وزرا اور فوجی افسران کی بیویوں کے ساتھ سیکس ٹیپ سے بدنام ہونے والے سابق انٹیلی جنس سربراہ کوآٹھ سال قید کی سزا

انسانوں کے خصیے چمپینزی کے مقابلے میں چھوٹے کیوں؟ وہ اعضا جن کی وضاحت ارتقا کا عمل بھی نہ دے پایا

جب افغانستان کو ایشیا کی ’دوسری بہترین ٹیم‘ قرار دیے جانے پر پاکستانی کپتان مسکرا دیے

انسانوں کے خصیے چمپینزی کے مقابلے میں چھوٹے کیوں؟ وہ اعضا جنھیں ارتقا کا عمل بھی نہ سمجھا پایا

خصیے اور ٹھوڑی سمیت وہ اعضا جنھیں ارتقا کا عمل بھی بیان نہیں کر پایا

کراچی میں کون سے 16 مقامات پر سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں؟ ٹریفک پولیس نے نشاندہی کرتے ہوئے وجوہات بھی بتا دیں

سونے کی قیمت میں اضافہ۔۔ فی تولہ سونے کی نئی قیمت کیا ہوگئی؟

درد سے تڑپتی رہی لیکن۔۔ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 11 سالہ بچی جان کی بازی ہار بیٹھی ! اصل ماجرا کیا ہے؟

قطب الدین بختیار کاکی: انڈیا میں قوالی متعارف کرانے والے بزرگ، جن کے مزار پر بادشاہوں سے عام افراد تک اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی