
افریقی ملک ایکواٹوریل گنی کی بایوکو ریجنل کورٹ نے ملک کی نیشنل فنانشل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ کو عوامی فنڈز کے غبن اور دولت کے غیر قانونی حصول کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔بالتاسر ایبانگ اینگونگا کو پانچ دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ، قومی خزانے سے لاکھوں ڈالر چوری کرنے اور فنڈز کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا مجرم پایا گیا۔عدالت نے انھیں بھاری جرمانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اینگونگا پر دو لاکھ 20 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ دیگر افسران کو ان کا ساتھ دینے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔بالتاسر ایبانگ اینگونگا ملک کے صدر کے بھتیجے ہیں، جو 1979 سے اقتدار میں ہیں اور ان کی عمر 82 سال ہے۔اینگونگا ان لوگوں میں سے ایک تھے جنھیں صدر کی جانشینی کے لیے امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ یہ فیصلہ حکومتی رہنماؤں کے احتساب کو درپیش سنگین چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں مالی بدانتظامی کے حوالے سے۔ شرمناک شہرتمالی الزامات کے علاوہ، اینگونگا نے کئی جنسی ویڈیوز آن لائن وائرل ہونے کے بعد بدنامی حاصل کی ہے۔ ویڈیوز میں وہ دیگر سرکاری اہلکاروں کی بیویوں کے ساتھ نظر آئے۔ویڈیوز میں شامل کچھ خواتین ملک کے طاقتور رہنماؤں کی بیویاں یا رشتہ دار تھیں، جس کی وجہ سے یہ کہانی دنیا بھر کے میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس میں بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوئی۔سینکڑوں ویڈیوز آن لائن لیک ہوئیں، جو عوام میں تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز میں اینگونگا کی نجی زندگی اور رومانوی تعلقات کو دکھایا گیا، جس سے وہ بہت زیادہ بد نام ہوئے۔اس واقعے نے سرکاری اہلکاروں اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کی زندگیوں کے بارے میں ایک بڑی بحث کو جنم دیا، جس سے یہ ظاہر ہوا نجی ویڈیوز کس طرح تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور کسی بھی قانونی مضمرات کے بغیر بھی مشہور شخصیت کے لیے شرمناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ ویڈیوز عدالتی الزامات کا حصہ نہیں تھیں۔AFPصدر کے بیٹے ملک کے نائب صدر ہیں اور ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ مائیکل جیکسن کا دو لاکھ 75 ہزار ڈالر کا یہ دستانہ پہنتے تھے جس پر ہیرے جڑے ہوئے تھےویڈیو سکینڈل کیا تھاکچھ اندازوں کے مطابق سنہ 2024 کے آخر میں ایسی150 سے 400 ویڈیوز لیک کی گئی ہیں جن میں انھیں اپنے دفتر اور دیگر جگہوں پر خواتین کے ساتھ سیکس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کی بھرمار ہے جنھوں نے وسطی افریقہ کے اس چھوٹے سے ملک کے ساتھ ساتھ پورے براعظم افریقہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ان ویڈیوز میں نظر آنے والی اکثر خواتین ملک میں طاقت کے مرکز کے قریبی لوگوں کی بیویاں اور رشتہ دار ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کچھ کو یہ معلوم تھا کہ ان کی بلتسار ایبانگ اینگونگا کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے ویڈیو بن رہی ہے۔ بلتسار ایبانگ اینگونگا کو ان کی خوبصورتی کی وجہ ’بیلو‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس سب کی تصدیق کرنا اس لیے مشکل ہے کیونکہ اکواٹوریئل گنی میں سینسرشپ نافذ ہے اور میڈیا بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔فیس بک پر ان ویڈیوز کا پہلا حوالہ جو بی بی سی کو ملا، وہ 28 اکتوبر 2024 کو ڈیاریو رومبے نامی پیج پر تھا جسے ایک جلاوطن صحافی سپین سے چلاتے ہیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ’سوشل نیٹ ورکس پر تصاویر اور لیک ہونے والی مبینہ سیکس ویڈیوز اور تصاویر کی اچانک بھرمار ہو گئی۔‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اگلے روز کہا گیا کہ ’سکینڈل نے حکومت کو جھنجھوڑا ہے‘ اور ’پورن ویڈیوز کی سوشل میڈیا پر بھرمار ہو گئی ہے۔‘تاہم اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیوز بعد میں ایک ایک کر کے ٹیلیگرام پر اپ لوڈ کی گئی تھیں اور یہ پلیٹ فارم کے ایک ایسے چینل پر اپ لوڈ کی گئیں جو اس طرح کے مواد کی اشاعت کے لیے مشہور ہے۔استوائی گنی کو ہلا دینے والا سیکس ٹیپ سکینڈل جس میں صدر، وزرا سمیت فوجی افسران کی بیویاں تک شامل ہیںاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے مبینہ ’فحش ویڈیوز‘ سکینڈل کی حقیقت کیا ہے؟وہ سیکس سکینڈل جس نے اندرا گاندھی سمیت انڈین رہنماوں کے سیاسی کیرئیر کو متاثر کیاسیکس سکینڈل جس نے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیااس کے بعد یہ ویڈیوز لوگوں کے فونز میں ڈاؤن لوڈ ہوئیں اور پھر اکواٹوریل گنی کے مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر ہونے لگیں۔اینگونگا کی شناخت ان ویڈیوز میں فوراً کی جا سکتی ہے اور ان کے ساتھ موجود خواتین کو بھی پہچانا جا سکتا ہے جو صدر کی رشتہ دار اور وزرا اور سینیئر فوجی اہلکاروں کی بیویاں ہیں۔حکومت اس سب کو نظر انداز نہیں کر سکی اور 30 اکتوبر کو نائب صدر تیودورو اوبیانگ نے ٹیلی کام کمپنیوں کو اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 24 گھنٹوں کا وقت دیا۔انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم کوئی کارروائی کیے بغیر خاندانوں کو بکھرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس دوران ان ویڈیوز کی اشاعت کرنے والوں کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں اور انھیں اپنی حرکتوں پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘ کیونکہ اینگونگا کے کمپیوٹر اور فون سکیورٹی فورسز کے پاس تھے اس لیے اس حوالے سے شکوک بھی اسی ادارے کی جانب ہیں کہ انھوں نے ٹرائل سے پہلے اینگونگا کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔پولیس کی جانب سے اینگونگا کے خلاف بغیر اجازت ایسی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے متاثرہ خواتین سے سامنے آنے کا کہا گیا ہے۔ ان میں سے ایک خاتون نے کہا کہ وہ مقدمہ چلانا چاہیں گی۔جو بات واضح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اینگونگا نے خود یہ ریکارڈنگز بنائی ہیں یا کسی اور نے۔ تاہم سماجی کارکنوں نے لیک ہونے والی ان ویڈیوز کے پیچھے موجود دیگر ممکنہ وجوہات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔AFPصدر کے بیٹے کے پرتعیش لائف سٹائل کے حوالے سے بھی کئی سکینڈل ہیں جو ملک کے نائب صدر ہیںصدر کا خاندان اور سکینڈلزبلتسار ایبانگ اینگونگا دراصل ملک کے موجودہ صدر تیوڈورو اوبیانگ نگویما کے بھتیجے ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا کہ وہ ان کی جگہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔اینگونگا صدر کے رشتہ دار تو ہیں لیکن وہ بلتاسر اینگونگا ایڈگو کے بیٹے ہیں جو ریجنل اکنامک اینڈ مانیٹری یونین (سیمیک) کے سربراہ ہیں اور ملک میں بہت بااثر سمجھے جاتے ہیں۔17 لاکھ کی آبادی والے ملک کی آبادی کا زیادہ تر حصہ غربت میں زندگی گزار رہا ہے۔ اوبیانگ کی انتظامیہ کو اس کے انسانی حقوق کے ناقص ریکارڈ کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کی حکومت پر لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور ان پر تشدد کرنے کے بھی الزامات موجود ہیں۔ان کے حوالے سے متعدد سکینڈلز بھی گردش کرتے رہے ہیں جن میں ان کے بیٹے کے پرتعیش لائف سٹائل کے حوالے سے انکشافات بھی شامل ہیں جو آج کل نائب صدر ہیں اور ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ مائیکل جیکسن کا دو لاکھ 75 ہزار ڈالر کا دستانہ پہنتے تھے جس پر ہیرے جڑے ہوئے تھے۔بی بی سی فوکس آن افریقہ پاڈکاسٹ سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن سانگ کسرٹیا ایسیمی کروز الزام عائد کرتے ہیں کہ 'نائب صدر کسی بھی ایسے شخص کو سیاسی طور پر راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں جو 'ان کی جانشینی کے حوالے سے چیلنج بنے گا۔'AFPاس ملک میں سیاست کا محور محلاتی سازشوں سے جڑا عوامی تجسس ہےملک میں تسلسل کے ساتھ انتخابات تو ہوتے ہیں لیکن حزبِ اختلاف نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ سماجی کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور جلا وطن کیا جاتا رہا ہے جبکہ جن کی نظر اقتدار پر ہے ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔اس ملک میں سیاست کا محور محلاتی سازشوں سے جڑا عوامی تجسس ہے اور یہی وجہ ہے کہ اینگونگا سے منسلک سکینڈل کے حوالے سے اتنی دلچسپی پائی جاتی ہے۔نائب صدر اور ان کی والدہ کے حوالے سے یہ شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو راستے سے ہٹا رہے ہیں جو ان کے صدر بننے کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔ان میں گیبریئل اوبیانگ لیما بھی شامل ہیں (جو صدر اوبیانگ کی ایک اور بیوی سے ہونے والی اولاد ہیں)۔ وہ 10 سال تک وزیرِ رہے اور پھر ایک حکومتی عہدے پر تعینات رہے۔ماضی میں بھی سیاسی حریفوں کو بدنام کرنے کے لیے ایسی ویڈیوز استعمال کی جاتی رہی ہیں۔’معجزوں‘ سے مریضوں کو صحتیاب کرنے والا پادری جو دنیا بھر سے آئی خواتین کا ہفتے میں کئی بار ریپ کرتابرسوں تک خواتین کا ریپ کرنے والا پادری: وہ بیٹی جسے اپنے باپ کے خلاف کھڑے ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیاسی آئی اے کا گھناؤنا خفیہ مشن جو ایک تصویر سے بے نقاب ہواہاتھرس ریپ کیس: بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ کی ویڈیو پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟ایک خطرناک منشیات فروش زندگیاں بچانے والا مسیحا کیسے بنا’روحانی پیروں‘ کا مسائل کے حل اور جِن نکالنے کے نام پر خواتین کا ریپ اور جنسی استحصال کرنے کا انکشاف