
ملک بھر میں گندم کی دستیابی سے متعلق خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن عبدالرؤف ابراہیم نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں تقریباً 20 لاکھ ٹن جبکہ ملک بھر میں 50 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت سے فوری گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عبدالرؤف ابراہیم کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور گندم بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو سال سے ڈی ریگولیشن کی پالیسی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی، جس کے باعث کسانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
@@3905599@@
انہوں نے کہا کہ 3 ہزار 500 روپے فی من سپورٹ پرائس کے اعلان کے باوجود کاشتکاروں کو اس کا عملی فائدہ نہیں پہنچ سکا، جبکہ سرکاری سطح پر 87 روپے 50 پیسے فی کلو کے حساب سے گندم کی مؤثر خریداری بھی نہیں کی گئی۔
چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ روٹی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے گندم کے بحران کو فوری طور پر حل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے خصوصی فورس قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہوئی ہے، جبکہ طلب اور رسد میں عدم توازن کے باعث آنے والے دنوں میں بحران بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ گندم کی فراہمی یقینی بنانے اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔