
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی الگ الگ سیاست اور جماعتیں ہیں، تاہم عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر دونوں جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر متحد ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی اتحاد کی خواہاں تھی لیکن وہ ساتھ نہیں آئے، تاہم پارلیمانی سطح پر عوامی موضوعات پر یکجہتی قائم ہے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کے مطابق سہیل آفریدی ہی صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور انہیں بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
انہوں نے پارٹی اراکین کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی بھی نئی نامزدگی سے متعلق اجلاس بلانے، ایجنڈا طے کرنے یا کسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے سے گریز کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کسی کو بھی وزیراعلیٰ کے لیے متبادل امیدوار نامزد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور ان کے فیصلے حتمی ہیں جن کی پابندی تمام اراکین پر لازم ہے۔