
Getty Imagesمشرقی ایشیائی ملک تائیوان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں پاکستان نے ان کی کم از کم دو ایئر لائنز کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ یہ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان نے مبینہ طور پر ’عجلت میں‘ اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔تائیوان کے ڈپٹی وزیر خارجہ چین من چنگ نے بلوم برگ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دعوی کہا ہے کہ ’انھیں شبہ ہے کہ تائیوانی ایئر لائنز کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے پیچھے چین ہو سکتا ہے۔‘بین الاقوامی جریدے بلوم برگ نے ہی پہلی مرتبہ یہ خبر دی تھی کہ پاکستانی حکام نے تائیوانی ایئر لائنز کو ’ون چائنہ پالیسی‘ کا حوالہ دے کر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا تھا۔خیال رہے کہ چین تائیوان کو ایک الگ خود مختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ وہ تائیوان کو اب بھی چین کا ایک ٹوٹا ہوا صوبہ تصور کرتا ہے اور اسے دوبارہ اپنی سرزمین کا حصہ بنانے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔تائیوان خود کو چین سے الگ ایک ملک کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم دنیا کے زیادہ تر ممالک کے تاحال تائیوان کے ساتھ سرکاری طور پر سفارتی سطح کے باضابطہ تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ان میں پاکستان سمیت امریکہ اور یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔تاہم غیر سرکاری طور پر امریکہ اور یورپی ممالک تائیوان کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔بلوم برگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستان تائیوان کو اپنی فضائی حدود استعمال نہ کرنے دینے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔‘بلوم برگ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تائیوان کے ڈپٹی وزیر خارجہ چین منگ چن نے کہا کہ چین کی طرف سے پہلے بھی اس قسم کے اقدامات کیے گئے ہیں۔چینی منگ چن نے کہا کہ ’یہ دنیا کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے کہ چین اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا کر اور پاکستان جیسے ملک کو استعمال کر کے اپنی مرضی سے فضائی حدود کو محدود کر سکتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ فضا کے آزادانہ استعمال کے حق کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘بلوم برگ ہی نے جمعرات کے روز یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکام نے اجازت نہ دینے کا فیصلہ اس کی خبر سامنے آنے کے بعد ’عجلت میں‘ واپس لے لیا ہے اور تائیوانی ایئر لائنز کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔Getty Imagesپاکستان کا کیا موقف ہے؟پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا کہ پاکستان کی طرف سے تائیوان کی ایئر لائنز کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے پیچھے چین ہو سکتا ہے۔تاہم بلوم برگ کی رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ پاکستان نے کوئی ’یو ٹرن نہیں لیا‘ یا عجلت میں فیصلہ نہیں کیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے پر کام ہو رہا تھا اور اس میں وزارت خارجہ سمیت مخلتف دفاتر کے ساتھ مشاورت کرنا شامل تھا۔‘سجاد حیدر کے مطابق ’مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کے روز فلائٹ کی اجازت جاری کر دی تھی۔ انھوں نے سی اے اے کی طرف سے جاری کردہ اجازت نامے کی دستاویزات بھی بھیجیں۔چین کے ’قومی دفاعی‘ قانون میں تبدیلی کو جنگی تیاریوں سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟چینی وزیرِاعظم کا وہ دورہ جو پاک چین دوستی کا پیش خیمہ بنا’چین نے ہمیں گھیر لیا ہے‘: تائیوان میں ممکنہ چینی حملے سے نمٹنے کی تیاری کے دوران جعلی میزائل، خون اور اداکاروں کا استعمالہیکرز، خفیہ کیبلز اور جاسوسی کے خدشات: برطانیہ میں چین کا نیا مجوزہ سفارتخانہ متنازع کیوں بن رہا ہے؟ان دستاویزات کے مطابق تائیوان کی ایک کارگو اور ایک مسافر بردار ایئر لائن کو رواں برس 27 اکتوبر سے آئندہ برس 27 مارچ تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس سے قبل بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ خواجہ آصف نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان ون چائنہ پالیسی پر عمل کرتا ہے اس لیے صرف چائنیز ایئر لائنز کو پاکستان کی فضا سے گزرنے کی جازت دی جاتی ہے۔‘ تائیوانی ایئر لائنز پاکستانی فضا سے کیوں گزر رہی تھیں؟تائیوان کے ایک جریدے یونائیٹڈ نیوز ڈیلی کے مطابق روس یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی تائیوان کی ایئر لائنز گذشتہ کافی عرصے سے یورپ کی طرف سفر کرنے کے لیے روس کی فضا استعمال کرنے سے گریز کر رہی تھیں۔اس لیے وہ اس عرصے کے دوران زیادہ تر انڈیا، پاکستان اور ترکمانستان سے گزرنے والا زیادہ طویل روٹ استعمال کر رہی تھیں۔سول ایوی ایشن کے ایک افسر نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ کوئی بھی ایئر لائن جب کسی ملک کی فضائی حدود کو استعمال کرتی ہے تو اس سے قبل وہ اس ملک کی فضائی اتھارٹی کو اپنی منزل اور فلائٹ پلان کے حوالے سے پیشگی مطلع کرتی ہے۔یوں اگر تائیوان سے آنے والی ایئر لائنز پاکستان کی فضا کو استعمال کرنا چاہیں تو وہ پاکستان کو مطلع کرتی ہیں اور پاکستان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس قسم کے جہاز اور کیوں اس کی فضا کو استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے اس قسم کے کوئی حکومتی احکامات نہیں آئے جن میں یہ کہا گیا ہو کہ تائیوان کی ان دو ایئر لائنز کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔’یہ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ حکومتی سطح پر کہیں زیر غور ہو لیکن اس حوالے سے کوئی واضح احکامات ہمارے پاس نہیں آئے۔‘Getty Imagesچین اور تائیوان کا جھگڑاکیا ہے؟ان دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم کے اس قضیے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ چین تائیوان کو اپنے ملک کا ایک علیحدہ ہوجانے والا صوبہ کہتا ہے جو بالآخر دوبارہ ملک کا حصہ بن جائے گا۔لیکن تائیوان کے بہت سارے لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آزادی کے کسی سرکاری اعلان نہ کرنے کے باوجود، وہ ایک علیحدہ قوم ہیں۔سنہ 1980 کی دہائی میں چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے لگی تھی۔ چین نے ایک فارمولا پیش کیا تھا جو ’ایک ملک، دو نظام‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے تحت اگر تائیوان نے چینی اتحاد کو قبول کر لیا تو اسے اہم خود مختاری دے دی جائے گی۔یہ نظام ہانگ کانگ میں قائم کیا گیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ تائیوان کے لوگوں کو چین کی اصل سرزمین کے ساتھ الحاق کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے اسے (یعنی ہانگ کانگ کو) ایک اچھی مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔تائیوان نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا تھا، لیکن اس نے چین میں آنے اور سرمایہ کاری سے متعلق قوانین میں نرمی کی۔ سنہ 1991 میں اس نے اصل سرزمین پر عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔فریقین کے غیر سرکاری نمائندوں کے درمیان بھی محدود بات چیت ہوئی تھی، حالانکہ بیجنگ کا اصرار تھا کہ تائیوان کی جمہوریہ چین (آر او سی) کہلانے والی حکومت غیر قانونی ہے، اس کا مطلب ہے کہ حکومت سے بات چیت نہیں ہو سکتی ہیں۔حالیہ برسوں میں تائیوان کے گرد چینی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے زیرِ انتظام لانے کے عزم کا اعادہ کرتا رہا ہے، جبکہ تائیوانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام ہی کریں گے۔