
نیشنل انجنیئرنگ سروسز پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (نیسپاک) نے کوٹری بیراج پر ٹیلی میٹری سسٹم لگانے کے لیے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سے این او سی دینے کی درخواست کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ارسا اس سے قبل سکھر اور گڈو بیراجوں میں رائٹ بینک پر کنٹرول روم کے قریب ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کی منظوری دے چکا ہے۔ نیسپاک نے اس حوالے سے چیف انجینئر انڈس ٹیلی میٹری کو خط بھیجا ہے اور باقاعدہ این او سی کی درخواست کی ہے۔
واپڈا کی جانب سے سندھ بیراج امپروومنٹ پروجیکٹ کے دفتر میں بلائے گئے اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں 27 مقامات پر ٹیلی میٹری سسٹم لگایا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیلی میٹری منصوبے کی تکمیل کی ابتدائی تاریخ 30 جون 2026 مقرر تھی تاہم سکھر اور گڈو بیراجوں پر ہونے والے مرمتی کام کی وجہ سے یہ مدت اب آگے بڑھ سکتی ہے۔
ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ مرمتی کام کی وجہ سے سندھ میں ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسپیشل سیکریٹری محکمہ آبپاشی ساجد بھٹو نے اجلاس میں گڈو اور سکھر بیراج پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کو ہدایت کی ہے کہ مکمل ہونے والے کام کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ اس کے بعد ٹیلی میٹری نصب کرنے کا عمل مکمل ہو سکے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ گڈو بیراج کے تین کینالوں کے دروازے تبدیل کیے گئے ہیں اور ان پر ٹیلی میٹری سسٹم لگایا جا سکتا ہے۔ بیراج حکام کو ہدایت دی گئی کہ آلات، گیٹس اور گیجز کی مکمل حفاظت کو یقینی بنائی جائے۔
ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ ارسا نے کہ اکہ محکمہ آبپاشی بتائے کہ سکھر اور گڈو بیراج پر مرمتی کام کب مکمل ہوگا۔ اس موقع پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ سکھر بیراج کے 10 دروازے 1939 سے بند ہیں جنہیں حالیہ دنوں میں ہونے والے مرمتی کام کے دوران تبدیل نہیں کیا گیا۔ غیر ملکی ماہرین ان دروازوں کے حوالے سے ماڈل اسٹڈی کر رہے ہیں اور ان کی سفارش پر فیصلہ کیا جائے گا کہ دروازے کھولے جائیں یا بند ہی رہنے دیے جائیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سکھر اور گڈو بیراج میں رائٹ بینک پر کنٹرول روم کے قریب ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے گا اور لیفٹ بینک پر ٹیلی میٹری سسٹم محکمہ آبپاشی کے مشورے سے لگایا جائے گا ٹیلی میٹری سینسر لگانے کے بعد گیجز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔