کابل کے بحالی مرکز پر پاکستان کے فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل


Anadolu via Getty Imagesانسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کی گئی ایک نئی تحقیق میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے دار الحکومت کابل میں ایک منشیات بحالی مرکز پر ہونے والے فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔یاد رہے کہ 16 مارچ کو ہوئے اس حملے میں اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 269 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کابل میں کیے گئے فضائی حملے میں ’تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم طالبان حکام اس دعوے کو رد کرتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو پاکستانی فوج کے اس دعوے کی تائید کرتے ہوں کہ حملے کے وقت ’امید ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹر‘ کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے یا کسی دوسرے فوجی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ منشیات بحالی مرکز پر ہوئے فضائی حملوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی مراکز کو حاصل خصوصی تحفظ اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔بی بی سی اُردو نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں موجود الزامات، ممکنہ جنگی جرم کے ارتکاب اور بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر ردعمل لینے کے پاکستان کی وزارت خارجہ اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات کو تحریری سوالات بھیجے۔ وزارت خارجہ نے بی بی سی اُردو کو اس ضمن میں ماضی میں وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے رجوع کرنے کا کہا۔یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان اس دعوے کو رد کرتا رہا ہے کہ اس کی جانب سے کابل میں کسی شہری ہدف یا طبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ماضی میں بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں پاکستان نے کہا تھا کہ ’کسی ہسپتال، کسی منشیات کے بحالی مرکز اور کسی بھی شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘ اور یہ کہ ’اہداف فوجی اور دہشت گرد انفراسٹرکچر تھے۔‘تاہم ماضی میں بی بی سی کے سوالات کے جواب میں پاکستانی فوج نے جیو نیوز ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کی ویڈیو فراہم کی تھی جس میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ’وہ اِن منشیات کے عادی افراد کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا تھا کہ یہ مرکز ’غالباً خودکش بمباروں کی تربیت گاہ تھا۔‘AFP via Getty Images16 مارچ کی رات لی گئی تصویر، کابل پر فضائی حملے کے بعد شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیںایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے کہا کہ ’امید سینٹر پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ وسیع پیمانے پر دستیاب معلومات کہ یہ مقام ایک دہائی سے زائد عرصے تک طبی سہولت کے طور پر استعمال ہوتا رہا تھا، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوجی منصوبہ بندی میں ایک بڑی ناکامی ہوئی، جس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد جان سے گئی۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک مہلک ناکامی تھی کہ پاکستان اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہ کر سکا جس کے تحت اسے ہر ممکن اقدام کرتے ہوئے تصدیق کرنا چاہیے تھی کہ نشانہ بنایا جانے والا مقام واقعی ایک فوجی ہدف ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حملے کی شفاف، جامع، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے، خصوصاً اس فیصلہ سازی کے عمل کی جس کے نتیجے میں اس طبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے۔‘ازابیل لاسی کے مطابق جہاں خاطر خواہ شواہد موجود ہوں وہاں متعلقہ حکام کو شبہ کی زد میں آنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے، بشمول کمانڈ ذمہ داری کے اصول کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داریاں۔یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اکتوبر 2025 میں سرحد پار کشیدگی میں اضافے کے بعد سے، افغانستان کے اندر پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے سلسلے میں یہ حملہ بھی شامل تھا۔Anadolu via Getty Imagesیہ عمارت ایک دہائی سے منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کے طور پر موجود تھیافغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران، افغانستان میں 372 افراد ہلاک جبکہ 392 زخمی ہوئے۔ یوناما کے مطابق 28 جون کو پکتیا، پکتیکا اور کنڑ صوبوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 28 شہری مارے گئے۔اگرچہ پاکستان میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کی حدود سے کی جانے والی مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم سات پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے رپورٹ میں مزید کہا کہ ’تنازع کے تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنا چاہیے اور شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں، جبکہ طبی مراکز اور دیگر خصوصی تحفظ یافتہ مقامات کے حوالے سے خاص طور پر زیادہ احتیاط برتی جانی چاہیے۔ امید سینٹر پر حملے جیسی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں ناکامی بین الاقوامی قانون کے لیے تشویشناک حد تک بے اعتنائی کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے جوابدہی کے فقدان کو تقویت ملنے کا خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں مزید غیر قانونی کارروائیاں اور شہریوں کی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔‘ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انھوں نے 60 سے زائد ایسی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ اور تصدیق کی ہے، جن میں سے بیشتر امید سینٹر پر حملے کے فوراً بعد ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اِن میں وہ ویڈیوز بھی شامل تھیں جو پاکستانی فوج نے اپنے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر جاری کی تھیں کہ اس مقام کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ایمنسٹی کے مطابق انھوں نے اس علاقے کی 30 سے زائد سیٹلائٹ تصاویر کا بھی جائزہ لیا، جبکہ حملے سے قبل امید سینٹر میں ہونے والی سرگرمیوں کی تصدیق شدہ ویڈیوز کا بھی معائنہ کیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس سلسلے میں مجموعی طور پر 11 انٹرویوز بھی کیے گئے۔ جن افراد کے انٹرویو کیے گئے، ان میں امید سینٹر اور اس کے قریب واقع ابنِ سینا ہسپتال کے موجودہ اور سابق ملازمین بھی شامل تھے۔ انٹرویو دینے والوں میں وہ افراد بھی شامل تھے جو حملے کے فوراً بعد متاثرہ مرکز پہنچے تھے جبکہ ان میں متاثرین کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔تنظیم کے مطابق انٹرویو کیے جانے والے افراد میں سے بعض فضائی حملے کے عینی شاہدین تھے، جبکہ کچھ افراد حملے کے بعد زخمیوں اور متاثرین کے انخلا کی کوششوں میں بھی شریک رہے تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انھوں نے نو جولائی کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کر کے پوچھا کہ حکومت نے ہدف کے تعین میں ممکنہ غلطیوں کی تحقیقات کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ اور آیا اس عمل میں شامل ذمہ دار افراد کا احتساب کیا گیا ہے یا نہیں؟ ایمنسٹی نے حکومت سے ایسے شواہد یا معلومات بھی فراہم کرنے کی درخواست کی جو اس دعوے کی تائید کریں کہ نشانہ بنائی گئی جگہ ’ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہ‘ تھی۔ایمنسٹی کے مطابق اس رپورٹ کی اشاعت تک پاکستانی وزارت خارجہ سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیںپاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘عسکری قوت کا موازنہ: پاکستان کو افغان طالبان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟’طبی مراکز پر حملوں کی ممانعت‘ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کا ’پرنسپل آف ڈسٹنکشن‘ (اصولِ امتیاز) کسی بھی تنازع کے فریقین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں، نیز شہری تنصیبات اور فوجی اہداف کے درمیان واضح فرق کریں۔ طبی مراکز اور ان کے عملے پر جان بوجھ کر حملے کرنا خاص طور پر ممنوع ہے، الا یہ کہ کوئی طبی سہولت اپنی انسانی ہمدردی کی خدمات کے دائرہ کار سے ہٹ کر استعمال کی جا رہی ہو۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق حملے کے اگلے روز سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے کابل میں دو مقامات پر واقع ’تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا ہے (جن میں سے ایک امید سینٹر تھا)۔رپورٹ کے مطابق عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ حملوں کے بعد ہونے والے سیکنڈری ڈیٹونیشنز (ثانوی دھماکوں) سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کارروائیوں میں گولہ بارود کے بڑے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اُن کے ساتھ شیئر کی گئی بموں کے باقیات کی ویڈیوز اور تصاویر کا ایمنسٹی کے اسلحہ ماہرین نے تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کے نتیجے میں ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں کم از کم ایک درست نشانہ لگانے والا گائیڈڈ بم ’تکبیر‘ شامل تھا۔ یہ نتیجہ پاکستانی فوج کے ان بیانات سے مطابقت رکھتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حملے میں درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیار استعمال کیے گئے۔ایمنسٹی کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ حملہ کسی اتفاقی غلطی کے بجائے ایک سوچے سمجھے اور جان بوجھ کر کیے گئے ہدفی فیصلے کا نتیجہ تھا۔AFP via Getty Imagesامید سینٹر سنہ 2016 میں نیٹو کے زیر استعمال رہنے والے ایک مقام پر قائم کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ مرکز منشیات کی لت میں مبتلا افراد کا علاج کروانے والوں کے لیے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کی سہولت کے طور پر کام کرتا تھا۔ سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس مقام کو توسیع دے کر منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے 2,000 بستروں پر مشتمل ایک بڑے طبی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔اسی احاطے میں ابنِ سینا ہسپتال بھی واقع ہے، جو امید سینٹر کے زیرِ علاج مریضوں کو ضروری طبی خدمات فراہم کرتا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق امید سینٹر میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات بڑی تعداد میں دستیاب ہیں، جن میں سنہ 2023 میں الجزیرہ کی تیار کردہ ایک دستاویزی فلم بھی شامل ہے جس میں مرکز میں زیرِ علاج مریضوں کو علاج معالجے کے مراحل سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انھوں نے مقامی زبان میں لکھے گئے کم از کم دو بڑے سائن بورڈز کی نشاندہی کی، جو اس سینٹر کے مرکزی دروازے اور مرکز کے احاطے کے اندر نصب تھے اور واضح طور پر ظاہر کرتے تھے کہ یہ مقام منشیات بحالی اور علاج کا مرکز ہے۔ تنظیم نے سنہ 2025 میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کی بھی تصدیق کی، جو مرکز کے اندر بنائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں ان ہینگرز کو دکھایا گیا تھا جہاں مریضوں کو رکھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپریل 2023 سے 15 مارچ 2026 تک کے عرصے میں امید سینٹر کی سیٹلائٹ تصاویر کا بھی تجزیہ کیا۔ 13 مارچ، یعنی حملے سے محض تین روز قبل لی گئی تصاویر میں مرکز کے اندر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قائم مقام ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے کہا کہ ’پاکستانی حکام کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ ایک شہری تنصیب تھی اور اس پر کسی بھی فضائی حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ حتیٰ کہ اگر پاکستانی فوج کے پاس اس مقام کے کسی فوجی استعمال سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات بھی موجود تھیں، تب بھی یہ واضح تھا کہ شہریوں کو پہنچنے والا نقصان حد سے زیادہ ہوتا۔‘BBC16 مارچ کے حملے میں ہلاک ہونے والے بعض لوگوں کی تصاویر’ہتھیاروں اور گولہ بارود سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے‘ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اُن سے بات کرنے والے افراد کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے کیا گیا، جب ماہ رمضان میں تراویح کی نماز اختتام پذیر ہو رہی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بات کرنے والے افراد کے مطابق حملے کا وقت ایسا تھا جب مرکز میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ مرکز میں کام کرنے والے متعدد افراد نے انٹرویوز میں بتایا کہ حملے کی رات وہاں ایک ہزار سے زائد مریض موجود تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت حملہ آور فریق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک اس بات کی تصدیق کرے کہ جس مقام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ واقعی ایک فوجی ہدف ہے۔ اگر اس حوالے سے کوئی شبہ موجود ہو تو حملہ نہ کیا جائے یا اسے منسوخ یا معطل کر دیا جائے۔اس قانون کے مطابق اگر کسی طبی مرکز کا کسی اور مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جا رہا ہو، تب بھی اس پر حملہ صرف اسی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے جب مؤثر پیشگی انتباہ جاری کیا گیا ہو اور اس پر عمل نہ کیا گیا ہو۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انھیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حملے سے قبل کسی قسم کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ تنظیم کے مطابق رات کی نماز کے دوران حملہ کیے جانے کے وقت شہریوں کی موجودگی یقینی تھی اور لوگوں کے انخلا کا کوئی موقع بھی نہیں ملا۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کئی ویڈیوز بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کے اس دعوے کی تائید کرتی ہیں کہ اس مقام کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اُن کے اوپن سورس تحقیق کاروں اور اسلحہ ماہرین نے ان ویڈیوز کے علاوہ مقامی ذرائع اور آن لائن ذرائع سے موصول ہونے والے شواہد کا بھی تجزیہ کیا۔ ویڈیوز میں ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کی بلیک اینڈ وائٹ فوٹیج شامل ہے، جس میں مختلف زاویوں سے فضائی حملے دکھائے گئے ہیں۔تاہم تنظیم کے مطابق نہ تو اِن ویڈیوز میں اور نہ ہی گراؤنڈ سورسز سے حاصل کی گئی فوٹیج میں ایسا کوئی حتمی ثبوت نظر آتا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ علاقے میں ہتھیار، گولہ بارود یا دیگر دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ فوٹیج میں حملوں کے فوراً بعد ایسے سیکنڈری ایکسپلوژنز یا ثانوی دھماکے بھی دکھائی نہیں دیتے جو گولہ بارود کے ممکنہ ذخیرے کی موجودگی کا ثبوت سمجھے جا سکتے ہوں۔ازابیل نے کہا کہ ’ہماری تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت یہ کوئی جائز فوجی ہدف نہیں تھا۔ پاکستان کی جانب سے اب تک عوام کے سامنے پیش کیے گئے ’شواہد‘ اس نتیجے کو رد نہیں کرتے کہ یہ ایک غیر قانونی حملہ تھا جس کے نتیجے میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔‘حملوں سے متاثرہ مقامات کی تفصیلاتAnadolu via Getty Imagesایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں اس سائٹ کے اندر کم از کم تین مقامات تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔ایمنسٹی کے مطابق 13 مارچ کی سیٹلائٹ تصاویر، جو حملوں سے تین روز قبل کی ہیں، امید سینٹر کو واضح طور پر دکھاتی ہیں۔ ایک کنٹرولڈ داخلی دروازے کے ذریعے مرکز کے مشرقی اور مغربی حصے ایک دوسرے سے الگ تھے۔ تصاویر میں اس دروازے کے مشرقی جانب بڑی تعداد میں افراد موجود دکھائی دیتے ہیں، جو انٹرویو دینے والوں کے مطابق مریضوں کی رہائش کا مرکزی حصہ تھا۔23 مارچ کی سیٹلائٹ تصاویر میں تین مقامات پر شدید تباہی اور آگ سے جلنے کے آثار نظر آتے ہیں۔ عطا اللہ تارڑ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں بھی متاثرہ عمارتوں میں سے تین کو نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جن میں شمال مشرق میں واقع ایک بڑی عمارت اور شمال مغرب میں واقع دو عمارتیں شامل ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے جنوب مغربی حصے میں بھی شدید تباہی اور آگ لگنے کے شواہد ملتے ہیں۔ان متاثرہ مقامات میں سے ایک شمال مشرقی حصے میں واقع ایک بڑا ہینگر تھا۔ انٹرویو دینے متعدد افراد نے بتایا کہ اس عمارت میں زیرِ علاج مریضوں کو رکھا جاتا تھا، جبکہ یہیں باورچی خانہ اور کھانے کا ہال بھی موجود تھا۔ حملے کے فوراً بعد اور انخلا کے عمل کے دوران بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر لاشیں اسی حصے سے نکالی گئی تھیں۔حملے میں متاثر ہونے والے دوسرے مقام، جو سائٹ کے شمال مغربی حصے میں واقع تھا، کے بارے میں متعدد افراد نے بتایا کہ اسے طالبان کے سکیورٹی اہلکار استعمال کرتے تھے اور وہاں خوراک ذخیرہ کی جاتی تھی۔تیسرا متاثرہ مقام احاطے کے جنوب مغربی حصے میں واقع تھا۔ مختلف ذرائع کے مطابق وہاں کوئلہ، لکڑی اور ضروری اشیا، مثلاً کپڑوں، کو ذخیرہ کیا جاتا تھا، جبکہ اسی حصے میں ایک سلائی سینٹر بھی قائم تھا۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی درخواست کردی

نورین نیازی کا بیان ذاتی رائے ہے، پارٹی پالیسی نہیں، بیرسٹر گوہر

ایرانی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور سرحدی تعاون پر تبادلہ خیال

23 جولائی سے ملک گیر ہڑتال، سینٹرل پنجاب کے پٹرولیم ڈیلرز کی مکمل حمایت کا اعلان

پیٹرول پمپ مالکان کو مذاکرات کی دعوت، مسائل بات چیت سے حل کریں گے، وزیر پیٹرولیم علی

کابل کے بحالی مرکز پر پاکستان کے فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

پاکستان میں پیٹرول پمپ مالکان کا غیر معینہ مدت تک پمپس بند رکھنے کا اعلان: قیمت روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا ’تکلیف دہ‘ فیصلہ کیوں کیا گیا؟

امریکی سینیٹ کمیٹی میں ایران کے خلاف جنگ پر ہیگستھ سے سخت سوالات، ’یہ آپ کی ناکامی ہے‘

دلّی کی سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں انڈین طلبہ کیوں احتجاج کر رہے ہیں اور کیا یہ مودی حکومت کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘ ہے؟

میاں محمود الرشید نے ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا

لاہور موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کی سزائے موت برقرار ، اپیلیں مسترد

وفاقی حکومت کا مالی سال 27-2026 میں بھی کفایت شعاری مہم جاری رکھنے کا فیصلہ

’ہاؤس آف سیکرٹس‘: پُرتعیش رہائش گاہ میں جرمنی کے جرنیلوں اور عہدیداروں کی جاسوسی کیسے کی جاتی تھی؟

دلّی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج: جنتر منتر پر 23 روز تک بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے طلبا کون ہیں؟

کیا کچھ خواتین کو وہ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو دیگر لوگ نہیں دیکھ سکتے؟

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی