
Daisy Kellyڈیزی کیلی (بائیں) ٹک ٹاک لائیو پر اپنی مصنوعات دکھا رہی ہیںڈیزی کیلی کا ایک ذاتی مسئلہ ان کے کاروبار کی شروعاتکی بنیاد بنا۔کئی برس تک انھیں اپنی پلکیں نوچنے کی عادت تھی۔ وہ اپنی اس عادت کو چھپانے کے لیے مصنوعی پلکوں کا سہارا لیتی تھیں۔ تاہم کووڈ وبا کے دوران جب بیوٹی پارلرز بند ہو گئے تو ڈیزی نے ایک ایسا سیرم بنانے کا فیصلہ کیا جو پلکوں کے بال دوبارہ اُگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔جب وہ 2020 میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو انھوں نے اپنی والدہ کے کچن سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا جس کا نام انھوں نے ’گلو فار اِٹ‘ رکھا۔ آج ان کی کمپنی سالانہ 60 لاکھ پاؤنڈز کی مصنوعات فروخت کرتی ہے۔ڈیزی کی 40 فیصد سے زیادہ فروخت ٹک ٹاک شاپ یو کے کے ذریعے ہوتی ہے اور لائیو سٹریمنگ کے ذریعے ہونے والے کاروبار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔27 سالہ ڈیزی کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں لائیو شاپنگ لوگوں کو وہ رابطہ اور تعلق فراہم کرتی ہے جس کی سب ہی کو خواہش ہوتی ہے۔ ’ہمیں ٹک ٹاک پر 12 گھنٹے کی لائیو نشریات کے دوران ایک لاکھ پاؤنڈز سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔‘’اس نے میرے کاروبار کی سمت ہی بدل دی ہے۔‘ڈیزی کا کاروبار ایک سٹوڈیو سے روزانہ کم از کم چھ گھنٹے کی لائیو نشریات کرتا ہے۔ اس دوران مختلف میزبان خریداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، انھیں مصنوعات دکھاتے ہیں اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایسا ہے جیسے آپ کی دکان میں 500 لوگ موجود ہوں۔‘اب متعدد پلیٹ فارمز اور آن لائن مارکیٹ پلیسز لائیو سٹریمنگ کے ذریعے فروخت کنندگان اور صارفین کو جوڑ رہے ہیں۔ ان میں انسٹاگرام لائیو، یوٹیوب شاپنگ سے لے کر ای بے اور ایمیزون لائیو شامل ہیں۔ تاہم ان سب کا طریقۂ کار مختلف ہے۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لائیو شاپنگ بہت سے صارفین کے روزمرہ خریداری کے رویوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ریٹیل ایجنسی سیوی مارکیٹنگ کی نئی تحقیق کے مطابق سروے میں شامل 30 فیصد خریداروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی لائیو شاپنگ ایونٹ کے دوران کوئی چیز خریدی ہے۔سیوی کی چیف ایگزیکٹو کیتھرین شٹل ورتھ کہتی ہیں کہ بڑے ریٹیلرز کو اس رجحان کو سنجیدگی سے اپنانا ہو گا۔ ’بہت کم وقت میں یہ ایک معمولی چیز سے ایک بڑے رجحان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اگر آپ کے پاس لائیو سٹریمنگ پر اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی حکمت عملی نہیں تو آپ پیچھے رہ جائیں گے۔‘BBCملک بچرز کے مینی ملکٹک ٹاک شاپ کا کہنا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے سال کے دوران برطانیہ میں اس کی فروخت میں 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے اور لائیو شاپنگ اس کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا فارمیٹ ہے۔کمپنی کے مطابق اب روزانہ 6,000 سے زیادہ لائیو سٹریمز نشر کی جاتی ہیں۔ایک تقریب کے دوران ٹک ٹاک نے صدیوں پرانی کووینٹ گارڈن مارکیٹ میں 20 چھوٹے دکانداروں کو سٹال فراہم کیے، جہاں وہ برطانیہ بھر کے صارفین کو بیک وقت لائیو سٹریم پر بھی اپنی مصنوعات فروخت کر رہے تھے۔وولورہیمپٹن سے تعلق رکھنے والے حلال گوشت کا کاروبار کرنے والے ملک کے پاس ایک سمارٹ فون، لائٹس اور تازہ گوشت سے بھرا ایک فریج تھا۔ تاہم ان کی لائیو سٹریم کو تقریباً 200 افراد دیکھ رہے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے تین گھنٹے کی ٹک ٹاک لائیو کے دوران انھوں نے آٹھ ہزار پاؤنڈز مالیت کا گوشت فروخت کیا۔ان کے مطابق ان کی خاندانی دکان کے ذریعے اتنا گوشت فروخت کرنے میں تین سے چار دن لگ جاتے ہیں۔اب وہ سٹوک میں اپنی دوسری دکان کھول رہے ہیں اور ان کے بقول ٹک ٹاک سے انھیں اپنا کاروبار پھیلانے میں بہت مدد مل رہی ہے۔تاہم اس کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ٹک ٹاک شاپ یو کے اپنے پلیٹ فارم پر فروخت ہونے والے ہر ایک پاؤنڈ میں سے نو پینس تک کمیشن کے طور پر اپنے پاس رکھتی ہے۔اگر اس کا موازنہ ای بے پر ہونے والی سیلز سے کیا جائے تو وہاں فروخت کنندگان اپنی مصنوعات کے لحاظ سے 6.9 پنس سے 14.9 پنس تک فیس ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ای بے لائیو پر کاروبار کرنے والوں کو ہر ایک پاؤنڈ پر کل 8.42 پنس تک ادا کرنا پڑتا ہے جس میں پروسیسنگ فیس بھی شامل ہے۔ مینی کہتے ہیں کہ ’یہ کافی زیادہ ہے۔‘’گوشت کے کاروبار میں منافع کا مارجن بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ تاہم اس نے ہمیں ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ ٹک ٹاک سے پہلے ہم اتنی فروخت نہیں کر پاتے تھے۔ ہمیں نقصان نہیں ہو رہا بلکہ ٹھیک ٹھاک منافع موجود ہے۔‘BBC34 سالہ بوکیٹ سیوک نے فروری میں زیورات کا برانڈ ’اڈورینا‘ شروع کیا۔34 سالہ بوکیٹ سیوک نے فروری میں زیورات کا برانڈ ’اڈورینا‘ شروع کیا۔ اس سے قبل وہ بزنس مینیجر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ پہلے انھیں ماہانہ 50 کے قریب آرڈر ملا کرتے تھے۔ تاہم مئی میں ٹک ٹاک شاپ برطانیہ پر لائیو فروخت شروع کرنے کے بعد سے انھیں اب ہفتہ وار 500 آرڈرز تک ملنے لگے ہیں۔ اب وہ اپنے کھانے کی میز سے کاروبار چلانے کے بجائے ایک چھوٹے یونٹ سے لائیو سٹریمنگ کرتی ہیں جہاں آرڈرز پیک کیے جاتے ہیں۔وہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ یہ ناقابلِ یقین ہے۔ان کا کام اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ وہ اب مدد کے لیے کسی کو ملازمت پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔تاہم بوکیٹ کے نزدیک لائیو سٹریمنگ کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’میں جب چاہوں لائیو آ سکتی ہوں۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ماں کے طور پر یہ میرے لیے بہترین کام ہے۔ میں اپنی بیٹی کو سلانے کے بعد فوراً لائیو سٹریم پر آ کر اپنی مصنوعات فروخت کر سکتی ہوں۔‘سیوی کے خریداروں سے متعلق تازہ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جین وائی اور جین زی سے تعلق رکھنے والے 66 فیصد خریداروں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی پراڈکٹ کو تیزی سے فروخت ہوتے یا وائرل ہوتے دیکھتے ہیں تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ بھی بالآخر اسے خرید لیں۔یہی وہ بات ہے جو قرضوں کے بارے میں مفت مشاورت فراہم کرنے والے ادارے منی ویلنیس کو تشویش میں مبتلا کرتی ہے۔ادارے کی بیرونی تعلقات کی مینیجر ربیکا لیمب کے مطابق لائیو شاپنگ ایونٹس ’ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کا نسخہ‘ ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب بھی آپ کسی چیز کے ختم ہونے سے پہلے اسے خرید لیتے ہیں تو آپ کے دماغ میں ڈوپامین پیدا ہوتی ہے اور یہ بالکل ویسی ہی کیفیت ہوتی ہے جیسی جوئے کے دوران محسوس ہوتی ہے۔’اور چونکہ بہت سی سروسز میں صرف ایک کلک سے ادائیگی ہو جاتی ہے، اس لیے نہ کارڈ نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے، نہ باسکٹ نظر آتی ہے اور نہ مجموعی رقم۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا پیسہ خرچ ہو جاتا ہے اور آپ کو مکمل احساس ہونے سے قبل ہی آپ سامان خرید چکے ہوتے ہیں۔‘