
پاکستانی اداکار فواد خان تقریباً نو برس بعد ایک مرتبہ پھر بالی وڈ فلم ’عبیر گلال‘ میں انڈین اداکارہ وانی کپور کے ساتھ سنیما گھروں کی پردہ سکرینوں پر جلوہ گر ہوں گے۔ ان کی نئی بالی وڈ فلم کا پہلا ٹیزر جاری کر دیا گیا ہے اور اداکارہ وانی کپور اور فواد خان کے اکاونٹس پر نظر آنے والی سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا گیا ہے کہ فلم ’عبیر گُلال‘ رواں برس 9 مئی کو ریلیز ہو گی۔فواد خان کے ساتھ اس میں فلم میں لیزا ہیڈن، رِدھی ڈوگرا، فریدہ جلال اور پرمیت شیٹھی سمیت متعدد انڈین اداکار کام کر رہے ہیں۔ لیکن ماضی کی طرح ایک بار پھر ان کی نئی فلم کا ٹریلیر ریلیز ہوتے ہی انڈیا میں ایک سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور ملک کے دائیں بازو کے گروہوں نے اس فلم کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) اور شیو سینا نے ملک میں فواد خان کی فلم کی ریلیز کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔انڈو ایشین نیوز سروس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایم این اس کے رہنما امے کھوپکر کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی اداکاروںیا پاکستانی فلموں کی مخالفت ہم پہلے سے کرتے آ رہے ہیں اور آگے بھی کریں گے۔‘’پاکستانی اداکار کو لے کر یہاں کوئی بھی فلم ریلیز نہیں ہو گی اور کوئی کوشش بھی نہ کرے اسے ریلیز کرنے کی۔‘ان مزید کہنا تھا کہ ’میں تو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ہمت ہے تو کوئی اسے ریلیز کر کے دکھائے۔‘اس کے علاوہ انڈین ایکسپریس کے مطابق شیو سینا کے رہنما سنجے نروپم نے بھی فواد خان کی فلم کی انڈیا میں ریلیز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کی طرف سے ریلیز کی جانے والی فلموں کو انڈین عوام دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ ایک یا دو منٹ کے لیے کچھ فلمیں دیکھنا الگ بات ہے مگر پاکستانی اداکار انڈین ناظرین میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔‘’اسی وجہ سے پاکستانی ستارے کبھی بھی انڈیا میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔ میں پاکستانی اداکاروں کو مشورہ دوں گا کہ وہ انڈین مارکیٹ میں گھسنے کے بجائے اپنے ملک میں کام کریں۔‘شیو سینا کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں مرکزی حکومت کو یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ پاکستانی فلموں کو انڈیا آنے کی اجازت ہونے چاہیے یا نہیں۔ پاکستانی اداکاروں کو انڈیا میں کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں یہ فیصلہ بھی حکومت کا ہونا چاہیے۔‘فواد خان اس سے قبل بھی تین انڈین فلموں خوبصورت، کپور اینڈ سنز اور اے دل ہے مشکل میں کام کر چکے ہیں اور انھیں ماضی میں بھی انڈیا میں دائیں بازو کے گروہوں کی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔انڈین میڈیا کے مطابق سنہ 2016 میں بھی فواد خان کی فلم اے دل ہے مشکل کی ریلیز سے قبل ایم این ایس کی جانب سے پاکستانی اداکار کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیے گئے تھے جس کے بعد فواد خان پاکستان واپس آ گئے تھے۔’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ انڈیا میں ریلیز نہ ہو سکی: ’یہ کرکٹ دشمنی کے سنیما ورژن کی طرح ہے‘راج کپور سٹوڈیو: ’بالی وڈ شو مین‘ کے خوابوں کی تعبیر جس کی تعمیر میں نرگس کی چوڑیاں بھی کام آئیںوہ عرب شہر جہاں سنیما گھر ’مزاحمت‘ کی علامت سے مذہبی انتہا پسند تحریکوں کی نذر ہو کر ویران ہو گئےمینوسفیئر: مردانگی سے متعلق شدت پسند نظریات کی وہ دنیا جہاں بچوں کے ذہنوں میں خواتین سے ’نفرت کا زہر گھولا جا رہا ہے‘جوان فلم میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے والی اداکارہ ردھی ڈوگرا بھی فواد خان کی فلم عبیر گلال کا حصہ ہیں اور وہ چار مہینے قبل سدھارتھ کننان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس فلم میں کام کرنے کی تصدیق کر چکی ہیں۔اس انٹرویو کے دوران انھوں نے اس فلم پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے صرف اس بات کا خیال رکھا تھا کہ کیا مجھے (اس فلم میں) کام کرنے کی اجازت ہے؟ بالکل ہمارا ملک ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے، ہماری حکومت ہمیں اس کی اجازت دیتی ہے۔‘’اگر اس سب کی اجازت ہے تو پھر میرے پاس آزادی ہے اگر اجازت نہیں ہوتی تو میں نہیں کرتی۔‘فواد خان سے متعلق پوچھے گَئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انسان اچھے ہیں، جیسے آپ اور میں ہیں بالکل ویسے ہی ہیں۔‘سوشل میڈیا پر بھی فواد خان کی انڈین فلم عبیر گُلال پر لوگ تبصرے کر رہے ہیں اور جہاں انڈیا میں اس کی ریلیز کی مخالفت ہو رہی ہے وہیں کچھ لوگ اس پر خوش بھی ہیں۔خود کو فلم ناقد کہنے والے کمال خان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس کے ہینڈلز کو ٹیگ کر کے لکھا کہ کیا ان جماعتوں کے ’کارکنان پاکستانی اداکار فواد خان کی فلم کی انڈیا میں ریلیز کی اجازت دیں گے؟‘ایک اور انڈین صارف نے لکھا کہ ’کیا یہ فلم انڈیا میں ریلیز ہو رہی ہے؟ فواد خان کو انڈین شہریت مل گئی کیا؟ نہیں ملی تو برائے مہربانی دے دیں۔‘ایسے ہی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’جب فواد خان بالی وڈ واپس آ رہے ہیں تو برائے مہربانی علی سیٹھی، ذیشان علی اور کاوش کو بھی انڈیا میں پرفارم کرنے کی اجازت دے دیں۔‘فواد خان کی فلم کو انڈیا میں ریلیز کے حوالے سے انڈین حکومت کا تاحال موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماضی میں بھی پاکستانی اداکاروں کی فلموں کو انڈیا میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گذشتہ برس فواد خان اور ماہرہ خان کی پاکستانی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ بھی دو اکتوبر کو انڈین ریاست پنجاب کے سنیما گھروں میں دکھائی جانی تھی، تاہم اجازت نہ ملنے کے سبب فلم کی سکریننگ کو روک دیا گیا تھا۔سُشانت سنگھ کی موت کی حتمی رپورٹ اور میڈیا ٹرائل پر بحث: ’کیا کوئی ریا چکرورتی سے معافی مانگے گا‘وہ سکینڈل جس پر فلم سٹوڈیو نے ایک لیب ٹیکنیشن کو سٹار بنا دیانذیر سے ندیم بیگ تک کا سفر: اسلامیہ کالج کراچی کا شرمیلا گریجویٹ، جو کرکٹ بھی اتنی ہی اچھی کھیلتا، جتنا اچھا وہ گاتا تھامحمد علی: پائلٹ بننے کا خواہشمند مذہبی گھرانے کا نوجوان ’شہنشاہِ جذبات‘ کیسے بنافوجی حکام کی تعلیمی اداروں اور شوبز میں انٹری پر تنقید: ’ریاست اعتدال پسند لوگوں کو اپنا دشمن بنا رہی ہے‘معاویہ بن ابو سفیان پر بننے والی سعودی سیریز پر ایران، عراق میں پابندی اور مصر میں تنقید کیوں؟