
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کریں، جبکہ ایران نے ان اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے ایران کو پہلے ہی تحفظات اور خدشات تھے جبکہ حالیہ صورتحال نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
@@3888232@@
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا، اور خطے میں جاری کشیدگی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا پڑوسی ممالک سے کوئی تنازع نہیں، تاہم افسوس ہے کہ بعض ممالک نے اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ تین سال سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بعض علاقائی ممالک کی خاموشی بھی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل مسلسل خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے بھی جاری ہیں، جبکہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے اور کسی بھی معاہدے کو کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ایران خاموش نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی ترجمان نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر ایران مخالف رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے عالمی ادارے کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل مختلف جعلی فلیگ آپریشنز میں ملوث رہا ہے اور حالیہ واقعات نے مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات پہلے ہی شدید بداعتمادی کے ماحول میں ہورہے تھے، جبکہ حالیہ پیش رفت نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔