
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری تنازع اس وقت اختتام پذیر ہوگا جب ایران جنگی محاذ پر برتری حاصل کر لے گا اور مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔
ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ کا انجام یا تو واضح فوجی کامیابی کی صورت میں ہوتا ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے۔ ان کے مطابق بامعنی مذاکرات اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب ایک فریق میدان جنگ میں نمایاں عسکری اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کرچکا ہو۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست کو اپنے عوام کی جان، سلامتی اور ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلے انتہائی احتیاط اور مکمل سوچ بچار کے ساتھ کرنے چاہییں۔ ان کے بقول سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلسل یہ جائزہ لیتی رہے کہ جنگ جاری رکھنے کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہیں یا نہیں۔
عباس عراقچی نے مزید دعویٰ کیا کہ اگرچہ ایران کو جنگ کے دوران کچھ نقصان بھی اٹھانا پڑا، تاہم اس کے باوجود ملک ایک مؤثر عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور اس نے اپنے سیاسی اور ریاستی نظام کی مضبوطی کا عملی مظاہرہ کیا۔