ڈاکٹر آصف محمود: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نئے پاکستانی نژاد سربراہ جو ماضی میں کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں


امریکہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے متفقہ طور پر پاکستانی نژاد امریکی شہری آصف محمود کو اپنا چیئر پرسن منتخب کیا ہے۔2024 کے دوران امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر حکیم جیفریز نے آصف محمود کو کمیشن میں تعینات کیا تھا اور پھر 2026 میں انھیں دوسرے دور کے لیے دوبارہ تعینات کیا گیا۔ اس سے قبل آصف محمود کمیشن کے نائب چیئر تھے۔امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے آصف محمود ایک ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے نئے سربراہ بننے پر آصف محمود نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان کے ایک چھوٹے گاؤں سے دنیا میں مذہبی آزادی یا عقیدے کی آزادی کے دفاع کے لیے سب سے نمایاں اداروں میں سے ایک کی قیادت کرنا ایک غیر معمولی سفر ہے۔‘انھوں نے بتایا کہ یہ ادارہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کرتا ہے۔ دریں اثنا آصف محمود ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر کانگریس کا الیکشن بھی لڑیں گے جو نومبر 2026 میں ہو گا۔ڈاکٹر آصف محمود کون ہیں؟ڈاکٹر آصف محمود ایک پاکستانی نژاد امریکی معالج، ڈیموکریٹ سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں جن کا شمار امریکی سیاست میں نمایاں پاکستانی امریکی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے بقول وہ پاکستان کے ایک چھوٹے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ان کی انتخابی مہم کے مطابق وہ پاکستان میں طب کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ آئے اور 1999 سے جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم ہیں، جہاں وہ پلمونولوجسٹ اور داخلی امراض کے ماہر ہیں۔ عوامی بیانات میں وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی مریض ہیلتھ انشورنس نہ رکھتا ہو تو ان کا کلینک علاج سے انکار نہیں کرتا۔مختلف انٹرویوز میں وہ یہ بتا چکے ہیں کہ امریکی سیاست میں ان کی دلچسپی پاکستانی امریکی برادری کی محدود سیاسی نمائندگی کے احساس سے پیدا ہوئی۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ امریکہ آنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ پاکستانی نژاد افراد ڈاکٹر، انجینئر اور کاروباری شخصیات تو بن رہے ہیں لیکن منتخب عہدوں اور مرکزی سیاسی دھارے میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔نیتن یاہو کی نیویارک آمد پر گرفتاری کا عندیہ: میئر زہران ممدانی کے بیان پر قانونی بحث چھڑ گئیامریکی فوجیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت کیوں پڑی’ابراہمی معاہدے‘ کے حمایتی اور پاکستان کی ثالثی کے ناقد امریکی سینیٹر لنزے گراہم وفات پا گئےہوشیار پور کے پولیس انسپکٹر امریکہ میں مطلوب کیوں؟ڈاکٹر آصف محمود نے ڈیموکریٹک پارٹی میں طویل عرصے تک مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ 2008 سے 2016 تک ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے مندوب رہے اور مختلف صدارتی انتخابی مہمات میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔2018 میں انھوں نے کیلیفورنیا کے انشورنس کمشنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑا جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔انھوں نے 2022 میں امریکی ایوان نمائندگان کے لیے کیلیفورنیا کے 40ویں کانگریشنل ضلع سے ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا جس میں انھیں ریپبلکن امیدوار ینگ کم سے شکست ہوئی تھی۔2024 میں انھیں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کمشنر مقرر کیا گیا اور وہ 2025 میں اس کے نائب چیئر بنے۔ اب انھیں اسی ادارے کا سربراہ بنایا گیا ہے۔امریکہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق وہ بحران کا شکار خطوں جیسے کشمیر اور ٹیگرے سمیت کئی علاقوں میں جانیں بچانے میں مدد فراہم کر چکے ہیں۔ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’کیلیفورنیا میڈیکل بورڈ کے دو مدتوں تک رکن رہنے والے ڈاکٹر محمود مریضوں کے حقوق کے پُرجوش حامی ہیں اور تمام طبقات کے لیے طبی سہولتوں اور بیمہ جاتی کوریج تک بہتر رسائی کے لیے کام کرتے ہیں۔‘پاکستان اور انڈیا سے متعلق سرگرمیاںڈاکٹر آصف محمود گذشتہ برسوں کے دوران کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ جولائی 2025 میںعمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان نے امریکہ میں ریپبلکن رہنما رچرڈ گرینیل سے ملاقات کی تو اس میں آصف محمود بھی شریک تھے۔ جبکہ دسمبر 2025 کے برطانیہ دورے کے دوران بھی وہ فاسم اور سلیمان خان سے ملے تھے۔ رواں سال فروری عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق اطلاعات پر انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر عمران خان کے لیے اعلیٰ درجے کی طبی نگہداشت درکار ہو تو کیلیفورنیا کے عالمی معیار کے طبی ادارے جامع علاج کی سہولت فراہم کرنے میں مدد کے لیے دستیاب ہیں۔‘جبکہ انڈیا کے حوالے سے آصف محمود کی سرگرمیاں زیادہ تر مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور کشمیر کے مسئلے پر مرکوز رہی ہیں۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے وابستگی کے دوران وہ انڈیا میں مسلمانوں، سکھوں، مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔مارچ 2026 کے دوران یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں امریکی حکومت کو یہ سفارش کی گئی تھی کہ انڈیا کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے ’خاص تشویش‘ پائی جاتی ہے۔ کمیشن نے جن اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی ان میں آر ایس ایس اور خفیہ ایجنسی ریسرچ را بھی شامل تھے۔ تاہم انڈین وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو ’سیاسی ایجنڈے پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔اس کے علاوہ ان کی عوامی پوسٹس اور بیانات میں شہریت ترمیمی قانون، کشمیر کی صورتحال، ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح اور مذہبی آزادی کے معاملات پر تنقیدی موقف دیکھا گیا ہے۔8 جون کو اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات پر آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ جبکہ میں اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

بھارت میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں

ڈاکٹر آصف محمود: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نئے پاکستانی نژاد سربراہ جو ماضی میں کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں

یمنی حوثیوں کی دھمکی، سعودی عرب کا جواب اور مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتا تنازع جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے

صدر ٹرمپ کا دنیا بھر پر نئے درآمدی ٹیرف لگانے کا اشارہ

حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کردی

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان: آبنائے باب المندب کیوں اہم ہے؟

ایران کا اردن اور بحرین میں امریکی فوجی و معاشی تنصیبات پر میزائل حملوں کا دعویٰ

امریکا کے خام تیل ذخائر 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، توانائی سلامتی پر خدشات بڑھ گئے

ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی کشیدگی: پینٹاگون کی 100 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا بیٹا ہے‘: ورلڈ کپ کے ’حقیقی فاتح‘ تین سالہ کائن کا جشن جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے

اینڈی برنہم برطانیہ کے 59ویں وزیرِاعظم بن گئے

سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی، کھانے کا ووچر بھی لازمی قرار

سعودی عرب کا عمرہ زائرین کے لیے بڑا اقدام، ایک سالہ ملٹی پل انٹری ویزا متعارف

امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدان جنگ میں برتری حاصل ہوگی، عباس عراقچی

بھارت میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، ایک روز میں 26 افراد ہلاک

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی