یمنی حوثیوں کی دھمکی، سعودی عرب کا جواب اور مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتا تنازع جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے


EPAیمن کے حوثی گروہ نے ملک کے شمال مغربی علاقے کی بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کی مبینہ ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔یہ اعلان حوثی گروہ کے فوجی ترجمان کی جانب سے کیا گیا جنھوں نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم حوثی میڈیا سے تعلق رکھنے والے حکام نے کہا ہے کہ وہ سعودی جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر رہے ہیں جو بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔اس اعلان کے جواب میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بین الاقوامی قوانین کے تحت سعودی جہازوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔‘واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب تیل کی ترسیلات کے لیے بحیرہ احمر سعودی عرب کے لیے اہمیت اختیار کر گیا تھا۔حوثی گروہ کی جانب سے حالیہ اعلان سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں کے درمیان 2022 میں باضابطہ امن قائم ہوا تھا۔حوثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صنعا کے فضائی اڈے پر سعودی بمباری کے جواب میں ابہا کے فضائی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔ تاہم صنعا پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ایک ایرانی جہاز کو بنا اجازت کے اترنے سے روکنا تھا۔2014 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے یمن کو متاثر کیا ہے جس کے دوران حوثی باغیوں نے صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حکومت کی بحالی کے لیے مداخلت کی تھی۔اس دوران ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ افراد دنیا کے سب سے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہوئے ہیں۔BBCسوموار کے دن حوثی فوجی ترجمان نے کہا کہ ’سعودی عرب نے 12 سال سے ہمارے لوگوں پر ایک غیر منصفانہ محاصرپ کر رکھا ہے، ہمارے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے اور ہماری بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کی جامع زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کی گئی۔‘انھوں نے کہا کہ اب حوثی گروہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول کے تحت سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’محاذ آرائی میں اضافے کی صورت میں جامع اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘نصر الدین عامر، جو حوثی میڈیا آفس کے نائب سربراہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آبنائے باب المندب کو سعودی جہازوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔‘آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔’کوہِ کلنگ‘: ٹرمپ کی نظر ایران کے اس پراسرار پہاڑ پر کیوں ہے؟موفق سلطی ایئر بیس: ایرانی حملوں کا نشانہ بننے والے اردن کے فضائی اڈے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟مراکش، تیونس اور ترکی :ایران-امریکہ جنگ کی وجہ سے کن ممالک میں سیاحت سستی ہوئی؟قیوم خان ملنگ: پاکستان سے ملحقہ افغان صوبے میں چند گھنٹوں کے لیے ایک ضلع پر قبضہ کرنے والے طالبان مخالف گروہ کے سربراہ کون ہیں؟ سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور 70 فیصد کام تیل اس راستے سے منتقل کیا جاتا ہے۔ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔حوثی باغی اور آبنائے باب المندبواضح رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دس دن سے امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں جس کے جواب میں ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کرنے کا دعوی بھی سامنے آیا ہے۔اپریل میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آبنائے باب المندب دنیا کی سٹریٹجک آبناؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور ایران کے پاس اس حوالے سے ایک مکمل اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔‘اس سے قبل حوثی گروہ، جو ایرانی حمایت یافتہ ہے، نے اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جن میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے تھے اور آبنائے باب المندب سے تجارتی ٹریفک کا گزر بہت کم ہو گیا تھا۔باشا رپورٹ نامی امریکی ایڈوائزری کمپنی کے محمد الباشا کہتے ہیں کہ ’اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حوثی گروہ سعودی عرب کی جانب جانے والے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے یا نہیں۔‘ انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا جاتا تو صرف اعلان سے ہی سعودی بندرگاہوں کے لیے غیر یقینی پیدا ہو گی۔‘ ’لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا حوثی دھمکیوں پر عمل بھی کریں گے؟‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

بھارت میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں

ڈاکٹر آصف محمود: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نئے پاکستانی نژاد سربراہ جو ماضی میں کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں

یمنی حوثیوں کی دھمکی، سعودی عرب کا جواب اور مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتا تنازع جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے

صدر ٹرمپ کا دنیا بھر پر نئے درآمدی ٹیرف لگانے کا اشارہ

حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کردی

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان: آبنائے باب المندب کیوں اہم ہے؟

ایران کا اردن اور بحرین میں امریکی فوجی و معاشی تنصیبات پر میزائل حملوں کا دعویٰ

امریکا کے خام تیل ذخائر 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، توانائی سلامتی پر خدشات بڑھ گئے

ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی کشیدگی: پینٹاگون کی 100 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا بیٹا ہے‘: ورلڈ کپ کے ’حقیقی فاتح‘ تین سالہ کائن کا جشن جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے

اینڈی برنہم برطانیہ کے 59ویں وزیرِاعظم بن گئے

سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی، کھانے کا ووچر بھی لازمی قرار

سعودی عرب کا عمرہ زائرین کے لیے بڑا اقدام، ایک سالہ ملٹی پل انٹری ویزا متعارف

امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدان جنگ میں برتری حاصل ہوگی، عباس عراقچی

بھارت میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، ایک روز میں 26 افراد ہلاک

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی