
بھارت میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کی احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی، جہاں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق طلبہ، والدین اور سماجی و سیاسی کارکنوں نے نوجوان تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔ احتجاج کا مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات اور حالیہ تعلیمی بحران کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو مبینہ طور پر زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد طلبہ نے احتجاج کا اعلان کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کے باوجود پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، جس کے بعد سی جے پی نے وزیرِ تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بھی استعفے کا مطالبہ کردیا۔
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ سونم وانگچک کے ساتھ حکومتی رویہ قابلِ مذمت ہے اور احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بعد حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحان کے مبینہ پیپر لیک اسکینڈل سے تقریباً 22 لاکھ 80 ہزار امیدوار متاثر ہوئے، جبکہ اس معاملے سے جڑے واقعات کے تناظر میں 20 سے زائد طلبہ کی خودکشیوں نے ملک بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی نظام، پیپر لیک اسکینڈل اور طلبہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج نے مودی حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کروا دیا ہے۔