
معروف پاکستانی ریپر علی گل پیر نے اپنے مشہور گانے ’وڈیرے کا بیٹا‘ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ابتدائی طور پر ٹی وی چینلز کی جانب سے یہ کہہ کر ریجیکٹ کردیا گیا تھا کہ اس میں نہ کوئی لڑکی ہے، نہ رومانس اور نہ ہی کوئی محبت کی کہانی ہے۔
علی گل پیر نے بتایا کہ اس گانے کا خیال انہیں اسکول کے زمانے میں جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے ہم جماعتوں کو دیکھ کر آیا تھا اور انہوں نے اسے جاگیردار کے بیٹے کے نقطۂ نظر سے ایک گھنٹے کے اندر لکھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گانا ان کے دوست کے پرانے کمپیوٹر پر صرف 15 ہزار روپے کے بجٹ میں تیار ہوا تھا جس کے لیے کیمرہ بھی ایک شادیوں کی ویڈیو بنانے والے دوست سے ادھار لیا گیا تھا۔
ٹی وی چینلز کی جانب سے انکار کے بعد جب انہوں نے 2012 میں اسے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا تو گانے نے صرف 4 گھنٹوں میں ایک لاکھ ویوز حاصل کرلیے اور وہ راتوں رات مشہور ہوگئے۔
علی گل پیر کے مطابق شہرت کے بعد فوری مالی فوائد تو حاصل نہیں ہوئے اور وہ بسوں میں ہی سفر کرتے رہے، تاہم بعد میں اس کامیابی نے شوبز میں ان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھول دیے۔