’چھلڑے چھلڑے وال‘ سرائیکی گیت ہے یا پنجابی؟


انسٹاگرام پر حال ہی میں وائرل ہونے والے گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ نے نہ صرف پاپ موسیقی کے دور میں ایک لوک گیت کو نمایاں مقام دیا ہے بلکہ ایک بحث کو بھی جنم دیا ہے۔اس گانے سے متعلق ریلز پر ہونے والے تبصروں میں آپ لوگوں کو اس بات پر بحث کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں کہ آیا یہ گانا پنجابی زبان میں ہے یا سرائیکی میں؟مشرقی پنجاب کے بعض لوگوں کے لیے شاید یہ گیت غیر مانوس ہو سکتا ہے۔ تاہم ’چھلڑے چھلڑے وال‘ کوئی نیا گانا نہیں ہے۔تاہم جب شانزے سیال اور محسن لشاری کی جوڑی نے اس گانے کا ایک کور ورژن انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تو چند ہی دنوں میں اسے کروڑوں مرتبہ دیکھا گیا۔صرف ان کے اپنے اکاؤنٹ پر ہی اس گانے کو 80 ملین سے زیادہ ویوز مل چکے ہیں۔اس کے بعد دیگر گلوکاروں نے بھی یہ گانا گانا شروع کر دیا اور سامعین کی جانب سے اسے پسند بھی کیا جا رہا ہے۔یہ گانا اس سے قبل بھی متعدد گلوکار گا چکے ہیں، جن میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں پیدا ہونے والے شفا اللہ خان روکھڑی بھی شامل ہیں۔اس گانے کی نئی مقبولیت کے ساتھ سرائیکی اور پنجابی زبان کے درمیان فرق اور تعلق کے حوالے سے بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔پنجابی یا سرائیکی؟بہت سے لوگ سرائیکی کو پنجابی زبان کی ہی ایک بولی قرار دیتے ہیں، جبکہ سرائیکی زبان کے حامی اسے ایک الگ اور مستقل زبان سمجھتے ہیں۔پاکستان میں سرائیکی زبان کی شناخت اور فروغ کی تحریک کا تعلق ایک الگ صوبے کے مطالبے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں اس مطالبے کو ’سرائیکستان‘ کا نام دیتی ہیں، جبکہ دیگر اسے ’جنوبی پنجاب‘ صوبے کے قیام کے مطالبے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔مجوزہ صوبے کی حدود کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ عام طور پر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس میں ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن کے علاقے شامل کیے جائیں، جبکہ بعض سرائیکی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ مزید اضلاع کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔Getty Imagesپاکستان کی 1981 کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی سے الگ مادری زبان کے طور پر درج کیا گیا تھا۔پاکستان کی 2023 کی مردم شماری میں 2 کروڑ 88 لاکھ افراد نے اپنی زبان سرائیکی درج کروائی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔سرائیکی زبان بولنے والوں کا مؤقفپاکستان میں سرائیکی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے امیر علی سلمان کہتے ہیں ’دلڑی لُٹندا یار سجن‘ جیسے لوک گیت اور خواجہ غلام فرید کا کلام بھی سرائیکی میں ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ سرائیکی زبان ملتان، جھٹکی اور دیگر مقامی بولیوں کے امتزاج سے تشکیل پائی ہے اور اس کا لہجہ اور ذخیرۂ الفاظ پنجابی سے خاصا مختلف ہے۔انہوں نے کہا ’بہت سے فنکار خود کو سرائیکی کہتے ہیں لیکن لوگ انھیں پنجابی گلوکار سمجھتے ہیں۔ ہمارا مقصد تمام زبانوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد ہے، نہ کہ زبان کو کسی قسم کی تفریق کی بنیاد بنانا۔‘ان کے مطابق ’چھلڑے چھلڑے وال‘ گیت میں بھی ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں، جو اس دعوے کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ گانا سرائیکی زبان میں ہے۔پاکستان میں سرائیکی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے امیر علی سلمان نے کہا کہ ’ماہی دیاں جھوکاں‘، جو کوک سٹوڈیو پاکستان پر جاری کیا گیا تھا، بھی سرائیکی زبان میں ہے اور اسے بہت پذیرائی ملی تھی۔انھوں نے کہا کہ یوٹیوب پر اس گانے کی تفصیل میں بھی اسے سرائیکی گیت قرار دیا گیا ہے۔پنجابی اور سرائیکی کے درمیان تعلقماہرِ لسانیات جوگا سنگھ وضاحت کرتے ہیں ’ماہرین لسانیات سرائیکی کو پنجابی کی ہی ایک ذیلی بولی سمجھتے ہیں۔ لسانی اعتبار سے اگر دو بولیوں کے بولنے والے ایک دوسرے سے بات چیت کے ذریعے باآسانی ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہوں تو انہیں ایک ہی زبان کی بولیاں تصور کیا جاتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ زبان کے مسئلے پر لوگوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی جڑیں غیر مساوی ترقی سے جڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ’پاکستان کے سرائیکی خطے (لاہور اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں) میں ترقی غیر متوازن اور نسبتاً سست رہی ہے۔‘پاکستانی پرچم کا بیج، راولپنڈی جانے کی ادھوری خواہش اور کراچی کے کھانے: انڈین اداکار اوم پوری جنھیں پاکستان اپنا لگتا تھامینا کماری کی موت کی خبر نے فلاپ فلم ’پاکیزہ‘ کی قسمت کیسے بدل دی؟ثانیہ سعید کو در نجات میں خوش بخت کے کردار پر کیا اعتراضات ہیں؟’یہ لوگ نہ ملتے تو شاید انڈر ورلڈ میں ہوتا‘: نانا پاٹیکر فٹ پاتھ پر سونے سے شہرت کی بلندی تک کیسے پہنچےمشرقی پنجاب کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امرتسر کی پنجابی اور بنوڑ کی پنجابی میں فرق پایا جاتا ہے، اسی طرح جب ہم ملتان کی طرف بڑھتے ہیں تو زبان اور لہجے میں بھی تبدیلی آتی ہے۔وہ کہتے ہیں ’پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پنجابی بولنے والوں کی بڑی تعداد کے باوجود تعلیم اب بھی اردو میں دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ زبان کے بارے میں مناسب فہم کا فقدان اور سیاسی عوامل ہیں۔‘پنجابی اور سرائیکی کی بحث کتنی پرانی ہے؟لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں سیاسیات کی استاد ڈاکٹر اسما فیض کرتی ہیں ’پاکستان میں ’سرائیکستان‘ کی تحریک کا آغاز ایک ثقافتی مطالبے کے طور پر ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہو گئی۔ 1980 کی دہائی کے اواخر میں اس شناخت کی بنیاد پر متعدد سیاسی جماعتیں بھی وجود میں آئیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں سرائیکی شناخت کے بارے میں بڑھتا ہوا شعور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپنی شناخت کے حوالے سے ان کا اعتماد بڑھا ہے، جبکہ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر سرائیکی زبان میں مواد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ان کے مطابق سرائیکی تحریک ثقافتی سطح پر خاصی مضبوط ہے، تاہم سیاسی محاذ پر نسبتاً کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ سرائیکی شناخت سے وابستہ کوئی مضبوط سیاسی جماعت موجود نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’پنجابی اور سرائیکی کے حامیوں کے درمیان یہ بحث کافی پرانی ہے اور دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی زبان زیادہ قدیم ہے۔‘’1960 کی دہائی میں سرائیکی دانشوروں کی کتابوں کی اشاعت میں تیزی آئی اور مردم شماری میں سرائیکی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد پنجابی دانشوروں کی جانب سے اس کی مخالفت شروع ہوئی۔‘وہ وضاحت کرتی ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں برطانوی دور سے اردو کو اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ پنجابی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے، لیکن اس زبان میں شائع شدہ علمی اور ادبی مواد نسبتاً کم ہے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے بعض پنجابی دانشور سرائیکی تحریک کے حوالے سے مختلف اور بعض اوقات مخالف ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید آرٹ اور انٹرٹینمنٹ

ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، لارنس بشنوئی گینگ سے تعلق کا انکشاف

میرے نانا کو ساری زندگی پانچ سال ضائع کرنے کا افسوس رہا، سلمان خان نے والدین کی شادی کا دلچسپ قصہ سنا دیا

بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے ملزم گرفتار: ’تینوں نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے‘

کرینہ کپور سونے سے پہلے پیروں پر کیا لگاتی ہیں؟ سیف علی خان کے دلچسپ انکشاف پر قہقہے لگ گئے

ایک شخص چِلّایا ’ٹائیگر بھائی!‘: بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر ممبئی میں فائرنگ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

’چھلڑے چھلڑے وال‘ سرائیکی گیت ہے یا پنجابی؟

کرینہ کپور نے سیف علی خان کی شادی کی پیشکش دو بار کیوں ٹھکرائی؟ دلچسپ انکشاف

پاکستانی پرچم کا بیج، راولپنڈی جانے کی ادھوری خواہش اور کراچی کے کھانے: انڈین اداکار اوم پوری جنھیں پاکستان اپنا لگتا تھا

لاوینیا فونتانا: مردوں سے زیادہ بے باک اور عریاں تصاویر بنانے والی پہلی خاتون مصورہ جنھوں نے جنسی کشش کے لازوال فن پارے بنائے

عمران خان کے دفاع میں بول پڑیں کرن راؤ، پولیس کارروائی پر اٹھا دیے سوال

کرن جوہر کے کافی مگ کا راز کھل گیا، کافی کے بجائے کیا پیتے ہیں؟

ثانیہ مرزا نے فرح خان کے 100 روپے والے وعدے کا راز کھول دیا

عمران عباس نے اداکاری چھوڑ کر نیا راستہ چن لیا

نور بخاری کے چہرے میں تبدیلی پر سوشل میڈیا صارفین حیران، اداکارہ کو تنقید کا سامنا

فلم ’ویلکم‘ میں کام کرنے سے نانا پاٹیکر نے کیوں انکار کیا تھا؟ ہدایت کار کا دلچسپ انکشاف

• عالمی خبریں • تازہ ترین خبریں
• پاکستان کی خبریں • کھیلوں کی خبریں
• آرٹ اور انٹرٹینمنٹ • سائنس اور ٹیکنالوجی