
ایک سلور رنگ کی بی ایم ڈبلیو گاڑی گیٹ سے باہر نکل رہی ہے۔ گاڑی میں انڈیا کے معروف بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف سوار ہیں، جو ہیرو پنتی، باغی اور وار جیسی کامیاب فلموں میں مرکزی کردار ادا کر چکے ہیں۔گیٹ کے باہر مداحوں کا ہجوم ہے۔ متعدد افراد اپنے موبائل فونز پر یہ مناظر ریکارڈ کر رہے ہیں، اور ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ اداکار کو کچھ کہنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ایک خاتون کی آواز آتی ہے: ’ٹائیگر بھائی صاحب! مجھے کچھ بتانا ہے۔‘گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی سڑک کی جانب جا رہی ہے۔ایک اور فرد چِلّاتا ہے: ’ٹائیگر بھائی!‘اسی وقت، اچانک، مسلح حملہ آور نمودار ہوتے ہیں اور فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھتی ہیں۔یہی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کر کے فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ ویڈیو بنانے والوں کو چیختے بھی سنا جا سکتا ہے۔پولیس کے مطابق ٹائیگر شروف جس حملے میں محفوظ رہے، تاہم فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے ڈرائیور فردوس زخمی ہوئے، جن کے بائیں ہاتھ میں گولی لگی۔ممبئی کے ویسٹ زون۔2 کے پولیس ڈپٹی کمشنر (ڈی سی پی) موہت گرگ کے مطابق، ’ٹائیگر شروف محفوظ ہیں۔ انھیں گولی نہیں لگی اور وہ زخمی نہیں ہوئے ہیں۔‘ڈی سی پی گرگ نے کہا: ’یہ واقعہ شام تقریباً سات بجے پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، وہ کسی ذاتی کام کے سلسلے میں آئے تھے۔ کام مکمل ہونے کے بعد جب وہ واپس جا رہے تھے تو یہ واقعہ پیش آیا۔‘بعد میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بنائی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صوفے پر بیٹھے ٹائیگر شروف نے قمیص اتار رکھی ہے، ان کے دائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی ہے، جب کہ سینے کے اوپری حصے، دائیں کندھے اور بائیں بازو پر بینڈیج ہے۔مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ انھوں نے جیکی شروف اور ٹائیگر شروف سے بات کی ہے۔انھوں نے کہا: ’میں نے ٹائیگر سے کہا ہے کہ وہ فکر نہ کریں۔ حکومت ان کے ساتھ ہے اور انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم تمام مشہور شخصیات کی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیں گے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکومت پوری طرح پُر عزم ہے۔‘’اگر کوئی دوسروں کو ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش کرے گا تو پولیس اور حکومت اسے نہیں بخشیں گے۔‘اس واقعے کے حوالے سے انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں امن و امان کی صورت حال پر سوالات اٹھائے ہیں۔سیاسی جماعتوں کانگریس اور این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) نے کہا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین) کے رہنما وارث پٹھان نے اسے ’قانون کی مکمل ناکامی‘ قرار دیا ہے۔پولیس نے کیا بتایاممبئی کے ڈی سی پی موہت گرگ نے میڈیا کو بتایا کہ ممبئی پولیس نے ملزموں کو پکڑنے کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔انھوں نے کہا: ’یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ٹائیگر شروف اپنی گاڑی میں واپس جا رہے تھے۔ انھیں کوئی گولی نہیں لگی اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔’فارنزک ٹیم نے ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس وقت تقریباً 15 ٹیمیں اس معاملے پر کام کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آئیں گی، انھیں شیئر کیا جائے گا۔‘تاہم صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انھوں نے کہا، ’اس وقت یہ بتانا مناسب نہیں ہو گا کہ کتنی گولیاں چلائی گئیں۔‘خبر رساں ادارے (انڈو ایشین نیوز سروس) آئی اے این ایس نے ممبئی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے فرار کے راستے کا پتہ لگانے کے لیے قریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کر دیا گیا ہے۔ سینیئر پولیس افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔اپوزیشن نے ممبئی میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھایاBBCفارنزک ماہرین جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیںانڈیا میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سچن ساونت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر انتہائی چونکا دینے والی ہے۔ آخر ممبئی میں کیا ہو رہا ہے؟‘انھوں نے لکھا کہ ’بابا صدیقی کا قتل، سلمان خان کے گھر پر فائرنگ، متعدد اداکاروں اور پروڈیوسروں کو دھمکیاں۔۔۔ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ افراتفری ہے۔ وزیر اعلیٰ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔‘سچن ساونت نے مزید کہا: ’عوام کو اُس حکومت کی مذمت کرنی چاہیے جس نے ممبئی کو مجرموں کے خوف میں دھکیل دیا ہے۔‘کانگریس رکنِ پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے ایکس پر لکھا: ’ممبئی میں امن و امان کی صورتحال انتشار کا شکار ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ٹائیگر شروف پر ہونے والی فائرنگ میں ایک اور شخص بھی زخمی ہوا ہے۔ کیا مجرموں کو قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا؟ حکومت اور محکمہ داخلہ کو ممبئی کے شہریوں کے تحفظ کے بارے میں جواب دینا چاہیے۔‘نامور بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر کے آخری لمحات پر ڈاکٹروں کا بیان، موت سے قبل کیا ہوا تھا؟احتجاج میں شرکت کے بعد بالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم کیوں دیا گیا؟پاکستانی پرچم کا بیج، راولپنڈی جانے کی ادھوری خواہش اور کراچی کے کھانے: انڈین اداکار اوم پوری جنھیں پاکستان اپنا لگتا تھا’سنجے دت کو پاکستان میں شانتی ملے گی‘: ’منا بھائی‘ کا شو میں خطاب جس پر تنقید کے بعد وضاحت جاری کرنا پڑینیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے رہنما روہت پوار نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا: ’شیو سینا کے پردیپ پورنیکر کو گولی مار کر قتل کیے جانے کا واقعہ ابھی تازہ ہے، اور اسی دوران ممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر انتہائی چونکا دینے والی ہے۔ خوش قسمتی سے ٹائیگر شروف محفوظ ہیں۔’لیکن اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست کے رہنما اور عہدے دار ہی محفوظ نہیں تو عام آدمی کی حفاظت کا کیا ہو گا؟ اگر ریاست کے معاشی دار الحکومت میں غنڈوں کا اتنا خوف ہے تو کون سا سرمایہ کار ریاست میں سرمایہ کاری کرے گا؟‘انھوں نے کہا: ’حکومت ریاست کو مؤثر طریقے سے چلائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو وزارتِ داخلہ کسی اہل وزیر کے سپرد کر دینی چاہیے۔‘وہ بالی وڈ فنکار جن پر حملے کیے گئےAFP via Getty Imagesدو سال قبل سلمان خان کے گھر کے باہر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھاحالیہ برسوں میں فلم انڈسٹری کے کئی فنکاروں پر حملے ہوئے ہیں یا وہ حملہ آوروں کے نشانے پر رہے ہیں۔ اس معاملے میں فلمی اداکار سلمان خان کا نام سب سے نمایاں ہے۔اپریل 2024 میں ممبئی میں سلمان خان کے گھر کے باہر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی چارج شیٹ میں کئی مرتبہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کے نام کا ذکر کیا گیا ہے۔گذشتہ سال جنوری میں اداکار سیف علی خان پر اُن کے گھر میں رات کے وقت چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں وہ زخمی ہوئے تھے اور انھیں سرجری کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔اس سے ایک سال قبل 2024 میں ٹی وی سیریل کرائم پٹرول میں کام کرنے والے فنکار راگھو تیواری پر بھی مبینہ طور پر سڑک پر ہونے والے ایک جھگڑے میں حملہ کیا گیا تھا۔