
میرے نانا نے میرے والد سے پانچ سال تک بات نہیں کی۔ جب سہیل پیدا ہوئے تو وہ مٹھائی لے کر ہمارے گھر آئے اور کہا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ میں نے اپنی ناراضی میں پانچ قیمتی سال ضائع کردیے، نہ اپنے نواسوں کو بڑا ہوتے دیکھا اور نہ ہی ایک اچھے انسان کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس بات کا افسوس انہیں زندگی بھر رہا۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے اپنے خاندان سے جڑا ایک پرانا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کے نانا کی ناراضی نے کئی سال تک گھر کے رشتوں میں فاصلے پیدا کیے اور پھر ایک دن انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
رئیلٹی شو بگ باس میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان خان نے بتایا کہ ان کے والد سلیم خان اور والدہ کی شادی پر نانا خوش نہیں تھے، تاہم اس ناراضی کی وجہ مذہب نہیں بلکہ فلمی دنیا سے متعلق ان کے خدشات تھے۔
سلمان خان کے مطابق ان کے نانا کو فکر تھی کہ ان کی بیٹی ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی کیسے گزارے گی جو اداکاری کے شعبے میں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف والدہ کے بہن بھائی اس رشتے سے خوش تھے اور سلیم خان کو پسند بھی کرتے تھے۔
اداکار نے بتایا کہ شادی کے بعد ان کے نانا نے سلیم خان سے رابطہ ختم کردیا۔ یہ خاموشی پانچ سال تک برقرار رہی، یہاں تک کہ ان کے چھوٹے بھائی سہیل خان کی پیدائش کے موقع پر نانا جلیبی کا ڈبہ لے کر باندرہ میں ان کے گھر پہنچے۔
اس ملاقات میں انہوں نے اپنے رویے پر پچھتاوے کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ اپنی سوچ اور ناراضی کی وجہ سے وہ خاندان کے ساتھ گزارے جانے والے کئی خوبصورت لمحوں سے محروم رہے۔
سلمان خان نے اپنے والدین کے درمیان ہونے والی معمولی گھریلو تکرار کا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق ایک مرتبہ ان کی والدہ ناراض ہوکر میکے پہنچیں تو نانا نے انہیں واپس اپنے گھر جانے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ یہ گھر ہمیشہ تمہارا ہے اور تم جب چاہو آسکتی ہو، لیکن شوہر سے جھگڑا کرکے یہاں آنا مناسب نہیں۔ سلمان خان کے مطابق ان کے نانا چاہتے تھے کہ میاں بیوی اپنے اختلافات کو خود سمجھداری سے حل کریں۔
سلمان خان نے اس خاندانی تجربے کو زندگی کا ایک اہم سبق قرار دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ بعض اوقات انسان اپنی ضد اور غلط فہمی کی وجہ سے قیمتی رشتوں اور خوشیوں سے دور ہوجاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد احساس تو ہوجاتا ہے، لیکن کھوئے ہوئے لمحے واپس نہیں آتے۔