
بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بھارتی پولیس نے حملے میں مبینہ طور پر ملوث تین افراد کو راجستھان سے گرفتار کرلیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان ٹرین کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم پولیس نے انہیں کوٹا ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لے لیا۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں سے دو کا تعلق بھارتی ریاست ہریانہ جبکہ ایک کا بہار سے ہے۔ تینوں ملزمان کو لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ پولیس اب ان کے ممکنہ ساتھیوں اور حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ ممبئی کے علاقے جوہو میں ٹائیگر شروف کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ فٹ بال میچ کھیلنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ فائرنگ کے دوران اداکار محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور فردوس اور چوہان نامی رکشہ ڈرائیور زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق ٹائیگر شروف کے دائیں ہاتھ پر بارود سے جلنے کے معمولی نشانات بھی آئے تھے۔
حملے کے بعد پولیس کو جائے وقوع کے قریب نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے مشتبہ افراد کی تصاویر ملی تھیں۔ فوٹیج میں سفید شرٹس پہنے دو افراد دکھائی دیے، جن میں سے ایک نے سیاہ ٹوپی پہن رکھی تھی۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ واردات میں تین افراد مبینہ طور پر شریک تھے، جن میں سے دو نے گاڑی کے قریب فائرنگ کی کوشش کی جبکہ تیسرا موٹر سائیکل پر ان کا انتظار کرتا رہا۔
پولیس نے تفتیش کے دوران اندھیری ریلوے اسٹیشن سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی تھی، جسے مبینہ حملہ آور فرار ہونے کے بعد چھوڑ گئے تھے۔ گاڑی کے رجسٹریشن ریکارڈ، نمبر پلیٹ اور دیگر تفصیلات کی جانچ کے ساتھ مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی۔
دوسری جانب لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب ایک سوشل میڈیا پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ انیل پنڈت اور ہرمن سندھو کے نام سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ اداکار کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا، جبکہ بالی ووڈ میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والی شخصیات کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔
اس واقعے کے بعد سلمان خان اور بشنوئی گروہ کے درمیان پرانا تنازع دوبارہ زیر بحث آگیا ہے۔ دونوں کے درمیان کشیدگی کا تعلق 1998ء کے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے جوڑا جاتا ہے، جس پر بشنوئی برادری کی جانب سے اداکار سے معافی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
ممبئی پولیس نے حملے کی تحقیقات کے لیے کرائم برانچ اور مقامی پولیس پر مشتمل 15 ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ فرانزک ماہرین نے جائے وقوع سے گولیوں کے شواہد اکٹھے کیے اور متاثرہ گاڑی کا معائنہ بھی کیا تاکہ فائرنگ کی تفصیلات واضح ہوسکیں۔
واقعے کے بعد مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈناویس نے ٹائیگر شروف اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی اداکار سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔
تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد تحقیقات نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ اب پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی کس نے کی، گرفتار افراد کو کس کی مدد حاصل تھی اور لارنس بشنوئی گینگ سے ان کے مبینہ تعلق کی نوعیت کیا ہے۔