
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر جمعیت علماء اسلام (ف) نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فارم 45 سے متعلق سامنے آنے والے تحفظات انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں میں جے یو آئی کے امیدواروں کی جیت کو ہار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نتائج سے متعلق شکایات کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات ہی جمہوری نظام کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتے ہیں، اس لیے انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا فوری ازالہ ضروری ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ آزاد امیدوار 5 نشستیں حاصل کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 3 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
انتخابی نتائج کے مکمل ہونے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی جوڑ توڑ کے عمل میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔