
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں سمندری وسائل، بحری ماحول اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندر محض ایک ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی، خوراک، معیشت اور زمین کے ماحولیاتی توازن کی بنیادی اساس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بحری حیات کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں مینگرووز کی بڑے پیمانے پر شجرکاری ماحولیاتی بحالی اور ساحلی علاقوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے ویسٹ مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ساحلی خطرات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور محدود مالی وسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے بحری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اقدامات میں مزید تیزی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو سمندری تحفظ اور ماحولیاتی آگاہی کی مہمات میں فعال طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں میں قدرتی وسائل کے تحفظ کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔
وفاقی وزیر بحری امور نے یورپی یونین کے “اوشین آئی” اقدام کو بحری تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا شیئرنگ، تحقیق اور بحری جدت کے شعبوں میں عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی کے مشترکہ اور مربوط اقدامات ہی سمندری ماحول کے تحفظ اور ساحلی معیشتوں کے پائیدار مستقبل کو یقینی بناسکتے ہیں۔