
عوام نے مالی سال 2026-27 کے متوقع وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوچکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بہت سے افراد بیماری کی حالت میں بھی اپنی ادویات خریدنے سے قاصر ہیں جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔
عوام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر آنے والے بجٹ میں مزید 18 فیصد یا اس سے زائد ٹیکس عائد کیے گئے تو یہ غریب طبقے کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوگا۔ شہریوں کے مطابق ایسے اقدامات سے روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہوجائے گی۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بلوں کے ساتھ ساتھ گھروں اور دکانوں کے کرائے بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں مزید ٹیکسوں کا نفاذ مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو عام آدمی کو ریلیف فراہم کر سکیں اور مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائیں۔
شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں عوام دوست اقدامات کو ترجیح دے گی اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے گی جو معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں۔