
میں لڑکیوں کو ایک بہت اہم مشورہ دینا چاہتی ہوں۔ جب آپ کو ازدواجی زندگی میں کوئی تکلیف ہو یا دل دکھے تو ضروری نہیں کہ ہر بات گھر والوں کو ہی بتائی جائے۔ کبھی کبھی انسان کو صرف دل کا بوجھ ہلکا کرنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی سمجھدار، قابلِ اعتماد یا حتیٰ کہ کسی بے فکر دوست سے بات کرلیں، دل ہلکا ہو جائے گا۔ میری اپنی شادی اس لیے بچ گئی کیونکہ میری والدہ نے میری شکایات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف میزبان، پروڈیوسر اور کاروباری شخصیت ندا یاسر نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی کو مضبوط رکھنے میں ان کی والدہ کا انتہائی اہم کردار رہا۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اداکار اور ہدایتکار یاسر نواز کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھی ندا یاسر اکثر اپنی نجی زندگی اور شادی کے ابتدائی چیلنجز کے بارے میں کھل کر گفتگو کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں اپنے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کم عمری اور ناپختگی کے باعث شادی شدہ لڑکیاں اکثر معمولی باتوں کو بھی بہت بڑا مسئلہ سمجھ لیتی ہیں۔
ندا یاسر نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ان کی ازدواجی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا تو وہ فوراً اپنی والدہ کے پاس جا کر رونا شروع کر دیتیں اور دل کی بھڑاس نکالتیں۔ تاہم ان کی والدہ نہایت تجربہ کار خاتون تھیں اور وہ ان کی باتیں خاموشی سے سن تو لیتی تھیں لیکن ان شکایات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ ندا کے مطابق ان کی والدہ سمجھتی تھیں کہ شاید وہ صرف غصے میں ہیں اور چند دن بعد معاملات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیٹی اپنی والدہ کو شوہر کے بارے میں منفی باتیں بتا دیتی ہے، جس کے بعد ماں کے دل میں داماد کے لیے ناراضی پیدا ہو جاتی ہے۔ بعد میں میاں بیوی تو صلح کر لیتے ہیں اور معمول کی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات والدہ کے دل میں وہ منفی تاثر باقی رہ جاتا ہے۔ ندا کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان کی والدہ نے کبھی ایسا نہیں کیا۔
ندا یاسر نے مزید بتایا کہ ان کی والدہ ان کی شکایات کو اس انداز میں سنتی تھیں جیسے ایک باپ اپنے بچے کی بات سنتا ہے۔ وہ انہیں صرف اظہارِ خیال کا موقع دیتی تھیں تاکہ وہ دل ہلکا کر سکیں اور پھر اپنی زندگی کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ ندا کے مطابق یہی رویہ ان کی شادی کو مضبوط رکھنے میں مددگار ثابت ہوا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ازدواجی مسئلہ گھر کے افراد کے ساتھ شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کو صرف کسی سے بات کرکے اپنا دل ہلکا کرنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک قابلِ اعتماد دوست بہتر انتخاب ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں مختلف نوعیت کے دوست ہونے چاہئیں، کچھ تفریح کے لیے اور کچھ ایسے جن کے ساتھ انسان اپنی ذاتی باتیں اور راز شیئر کر سکے۔
ندا یاسر کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی ہے، جہاں بہت سے صارفین ان کی والدہ کی دانشمندی کو کامیاب ازدواجی زندگی کی ایک اہم وجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ہر مسئلے کو خاندان میں پھیلانے کے بجائے سمجھداری اور صبر سے حل کرنا واقعی رشتوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔