
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریلوے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں، اصلاحات اور جدیدکاری کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کے لیے سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے، جبکہ جدید اور مؤثر ریلوے نظام ملکی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس ہب بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
@@3904416@@
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کے تمام ترقیاتی منصوبے اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے مین لائن ون (ایم ایل-1) کے روہڑی تا ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے جامع تجاویز بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ایل-1 کے کراچی تا روہڑی سیکشن کی تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ایم ایل-3 کے روہڑی تا نوکنڈی سیکشن کی اپ گریڈیشن پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور برج فنانسنگ کے تحت کی جائے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کے تحت تھر کول سے چھور ریلوے اسٹیشن تک 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔
حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کی اصلاحات کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے کے زیرِ انتظام اسکولوں اور اسپتالوں کی خدمات آؤٹ سورس کی جا چکی ہیں، جبکہ ملک کے چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن پر بھی کام شروع کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر وزیراعظم برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔