
سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے فہمیدہ پتافی کے مبینہ اغوا کیس کی سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہوم سیکرٹری سندھ اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ متعدد مواقع فراہم کیے جانے کے باوجود متعلقہ حکام نے نہ تو عدالت کے احکامات پر مؤثر عمل درآمد کیا اور نہ ہی کیس کی پیش رفت سے متعلق تسلی بخش رپورٹ پیش کی، جس کے باعث عدالت کو وارنٹ جاری کرنے کا حکم دینا پڑا۔
سماعت کے دوران عدالت نے فہمیدہ پتافی کی بازیابی اور تفتیش کی رفتار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود اب تک کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور لاپتا یا اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے متعلقہ حکام عدالت کے احکامات پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔